Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-21 - 728
شُبہ نمبر۱:۔
قرآن مکمل کتاب ہے اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے پھر حدیث کی کیا ضرورت، نیز اس کا سمجھنا بھی آسان ہے ۔ رب فرماتا ہے:
'' وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ ''
شُبہ کا ازالہ :۔
بے شک قرآن مکمل کتاب ہے مگر اس مکمل کتاب سے لینے والی کوئی مکمل ہستی چاہیے۔ اَور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سمندر سے موتی ہر شخص نہیں نکال سکتا شناور کی ضرورت ہے۔ قرآن حفظ کے لیے آسان ہے کہ بچے بھی یاد کرلیتے ہیں نہ کہ مسائل نکالنے کے لیے اِسی لیے
لِلذِّکرِ
فرمایا گیا یعنی یاد کرنے کے لیے۔
شبہ نمبر ۲:۔
رسُول ربّ کے قاصد ہیں جن کا کام ڈاکئے کی طرح رب کا پیغام پہنچاناہے۔ نہ کہ کچھ سمجھانااور بتانا ۔ رب فرماتا ہے :
'' لَقَدْجَآءَ کُمْ رَسُوْل ''
شبہ کا ازالہ :۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی ہیں خدائی کے معلّم بھی ، مسلمانوں کو پاک سُتھرا فرمانے والے بھی رب نے فرمایا:
'' وَیُزَکِّیھِمْ وَیُعَلِّمْھُم الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ ''
کیا بعض آیات پر ایمان ہےبعض پر نہیں۔ مشین کا استعمال سکھانے کے لیے مشین والوں کو کارخانے کی طرف سے کتاب بھی دی جاتی ہے اور معّلم بھی بھیجے جاتے ہیں۔

کارخانۂ قدرت کی طرف سے ہمیں جسم کی مشین دی گئی ۔ اس کا استعمال سکھانے کے لیے کتاب قرآن شریف اور معلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔
معلّم خدائی کے وہ بن کے آئے            جھُکے اُن کے آگے سب اپنے پرائے
شبہ نمبر ۳:۔
موجودہ حدیثیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی نہیں ہیں یہ تو بعد میں لوگوں نے گھڑ کے بنالی ہیں۔ کیونکہ زمانۂ نبوی میں لکھنے کا اتنا رواج ہی نہ تھا۔
شبہ کا ازالہ :۔
پھر قرآن کی بھی خیر نہیں کہ زمانۂ نبوی میں سارا قرآن لکھا نہ گیا نہ کتابی شکل میں جمع ہوا۔ خلافتِ عثمانیہ میں اسے جمع کیا گیا ۔ جناب زمانۂ نبوی میں قلم سے زیادہ حافظے پر اعتماد تھا۔ رب نے صحابۂ کرام کو غضب کے حافظے عطا فرمائے تھے۔ بعد میں ضرورت پیش آنے پر قرآن بھی سینوں اور کاغذکے پرچوں وغیرہ سے جمع کیا گیا۔ اور احادیث بھی حضرت علی مرتضٰی کے پاس بہت سی حدیثیں لکھی ہوئی تھیں۔ جنہیں آپ تلوار کے پر تلے میں رکھتے تھے اور لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ

  ۸۰ ؁ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مسندِ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ اور آپ کے شاگرد امام محمد نے مؤطا  امام محمد اور آپ کے بد  امام مالک نےرحمۃ اللہ علیہ جو   ۹۰    ؁ھ میں پیدا ہوئے۔ مؤطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کتب حدیث لکھیں پھر اُن سے قریب ہی امام بخاری وغیرہم کا زمانہ ہے جنہوں نے بہت احتیاط سے احادیث چھانٹیں اور جمع کیں۔
شبہ نمبر ۴:۔
بعض حدیثیں بعض کے متعارض ہیں اور بعض عقل کے بھی خلاف ہیں لہذا گھڑی ہوئی ہیں۔
اس کا ازالہ :۔
حدیثیں صحیح ہیں آپ کی فہم میں غلطی ہے۔ سرسری نظر سے تو قرآن کی آیتیں بھی آپس میں
Flag Counter