| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
مخالف معلوم ہوتی ہیں کیا ان کا بھی انکار کرو گے۔ قرآن و حدیث باقاعدہ علماء سے پڑھنی چاہیں محض ترجموں سے نہیں آتیں۔ آخری گزارش:۔منکرینِ حدیث سے ایک گزارش ہے کہ ہم لمبی بحث میں نہیں پڑتے صرف دو مسئلے قرآن کے ذریعہ آپ سے حل کراتے ہیں:۔ ۱۔ اسلام کا سب سے عام حکم ہے
'' اَقِیمُوالصَّلوٰۃَ وَاٰتُواالزَّکوٰۃَ ''
نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ براہ مہربانی قرآنی نماز۔ قرآنی زکوۃ ادا کرکے دکھادیجئے ، جس میں حدیث سے امداد نہ لی گئی ہو۔ نماز کل کتنے وقت کی ہے اور کتنی رکعتیں ہیں۔ زکوۃ کتنے مال پر کتنی ہے۔ ۲۔ قرآن نے صرِف سؤر کا گوشت حرام کیا ہے۔ کُتّے ،بلّے ، گدھے اور سؤر کے کلیجی گردوں کی حرمت قرآن سے دکھادیجئے۔ غرضیکہ چکڑالویّت صرف قولی مذہب ہے جس پر عمل ناممکن ہے۔ ان حالات کے ماتحت فقیر نے اپنے ربّ کے کرم اور اس کے محبو ب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مہربانی سے قران شریف کے تین اگلے پاروں کی اُردو زبان میں ایک مفصّل تفسیر مصمّٰی اشرف التفاسیر لکھی اور تیسوں پاروں کی ایک مختصر اور جامع تفسیر مسمّٰی نورالعرفان تصنیف کی ‘ جس میں ضروریات ِ زمانہ کے لحاظ سے فوائد سوال و جواب وغیرہ ہیں۔ ادھر بخاری شریف کی شرح عربی زبان میں یعنی کلامِ حبیب کی شرح زبانِ حبیب میں
مسمّٰی باسم تاریخ انشراح بخاری المعروف بنعیم الباری
تصنیف کی ۔ عرصہ سے خیال تھا کہ مشکوۃ شریف جو فنِ حدیث میں درسِ نظامی کی پہلی کتاب ہے اور کتب ِاحادیث کی جامع۔ جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ عرب و عجم میں ہر جگہ پڑھائی جاتی ہے اور عربی فارسی ، اردو زبانوں میں اس کی بہت شرحیں لکھی جاچکی ہیں۔ اس کی اردو میں ایسی شرح لکھوں جو طلباء علماء عوام المسلمین کو یکساں مفید ہو اور جس میں نئے مذاہب اور ان کے احادیث پر نئے اعتراضات کے جوابات بھی ہوں۔ کیونکہ مرقات اور لمعات والوں کے زمانہ میں دنیا کا اور رنگ تھا۔ انہوں نے اس وقت کی ضروریات کے لحاظ سے شرحیں لکھیں نیز ہمارے عوام عربی فارسی سے واقف نہ ہونے کی بناء پر ان سے فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔ اب دور کچھ اور ہے۔ ہوا کا رُخ دگرگوں ہے۔ اُس میں اس زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے مگر اس بڑے کام کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ ایک بار سرگودھے میں حضرت صاحبزادہ والا شان سلالہ خاندان صاحبزادہ فیض الحسن صاحب زیب سجادہ آلو مہار شریف نے مجھے پُرزور حکم دیا کہ زندگی کا کوئی ٹھیک نہیں۔ مشکوۃ شریف کی اردو میں شرح لکھے جاؤ۔ اس ارشادِ گرامی نے دل میں جوش تو پیدا کیا لیکن حالات کی ناموافقت اور اسباب کے فقدان کی وجہ سے عرصہ تک بس و پیش ہی کرتا رہا کہ ایک روز اچانک میرے دلی دوست حکیم سردار علی صاحب ولد چوہدری میراں بخش صاحب مہاجر مشرقی پنجاب ضلع امرتسر مقیم گجرات نے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ مشکوۃ شریف کی اردو شرح کی سخت ضرورت ہے۔