| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمدﷲ رب العلمین خالق السموت والارضین والصلوۃ والسلام علی سیدالانبیآءِ والمرسلین وعلیٰ الہ الطیبین واصحابہ الطَّاھرین۔
اَمَّابَعْدُ
جاننا چاہیے کہ اسلام میں کلام اﷲ (قرآن )کے بعد کلامِ رسول اﷲ(حدیث)کا درجہ ہے۔ کیوں نہ ہو کہ اﷲکے بعد رسول اﷲ کا مرتبہ ہے۔ قرآن گویا لیمپ کی بتی ہے اور حدیث اس کی رنگین چمنی،جہاں قرآن کا نور ہے وہاں حدیث کا رنگ ہے۔ قرآن سمندر ہے حدیث اس کا جہاز، قرآن موتی ہیں اور مضامینِ حدیث ان کے غوّاص ، قرآن اجمال ہے حدیث اس کی تفصیل، قرآن ابہام ہے حدیث اُس کی شرح، قرآن رُوحانی طعام ہے، حدیث رحمت کا پانی کہ پانی کے بغیر نہ کھانا تیار ہو نہ کھایا جائے، حدیث کے بغیر نہ قرآن سمجھا جائے نہ اُس پر عمل ہوسکے۔ قدرت نے ہمیں داخلی خارجی دونوروں کا محتاج کیا ہے۔ نورِ بصر کے ساتھ نور قمر وغیرہ بھی ضروری ۔ اندھے کے لیے سورج بے کار، اندھیرے میں آنکھ بے فائدہ۔ ایسے ہی قرآن گویا سورج ہے حدیث گویا مومن کی آنکھ کا نور یا قرآن ہماری آنکھ کا نور ہے اور حدیث آفتابِ نبوت کی شعاعیں، کہ ان میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو ہم اندھیرے میں رہ جائیں۔ اسی لیے ربّ العٰلمین نے قرآن کو کتاب فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نُور۔
'' قَدْجَآءَ کُمْ مِّنَ اﷲِ نُوْر وَّکِتَاب مُّبِیْن''
یقین کرو کہ کتاب اﷲ خاموش قرآن ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی شریف بولتا ہوا قرآن۔ وہ قال ہےیہ حال۔ حضور کی ہر ادا قرآنی آیات کی تفصیل ہے۔ ع
تیرے کردار کو قرآن کی تفسیر کہتے ہیں
غرضیکہ قرآن و حدیث اسلام کی گاڑی کے دو پہیے ہیں یا مومن کے دو پر۔ جن میں سے ایک کے بغیر نہ یہ گاڑی چل سکتی ہے نہ مومن پرواز کرسکتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے تراجم کا بہت شوق ہے ہرشخص چاہتا ہے کہ میں اپنے ربّ اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سمجھوں یہ جذبہ نہایت قابلِ قدر ہے مگر بعض پڑھے لکھوں نے اس سے غلط فائدے اٹھائے کہ قرآن و حدیث کے ترجموں کے بہانوں سے بُرے عقائداَور غلط خیالات پھیلا دیئے۔ آج مسلمانوں کے بیسیوں فرقے اور ان کا آپس میں دُھول جوتا ان ہی ترجموں کا نتیجہ ہیں۔ پھر شامتِ اعمال سے اب وہ بھی پیدا ہوگئے جو سرے سے حدیث کا انکار ہی کرنے لگے ، اُن کا فتنہ بہت پھیل رہا ہے۔ انکار ِ حدیث پر بے شمار دلائل قائم کئے جانے لگے۔ مگر سب کی بنیاد چار شبہوں پر ہے۔ اگر یہ زائل ہوجائیں تو تمام اعتراضوں کی عمارت خودبخود ہی گِر جاتی ہے۔