| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ عربی متن میں نقل کردوں گا۔ اس سے کچھ میری ہمت بڑھی مگر پھر بھی شروح کا دیکھنا اور خود لکھنا بھاری کام تھا۔ میرے لختِ جگر نورِ بصر مفتی محمد مختار خان عرف محمد میاں سلمہ اﷲ نے کہا کہ بولتے آپ جائیں لکھوں گا میں۔ تب میں سمجھا کہ یہ سرکاری انتظامات ہیں جو ان پیاروں کے منہ سے ایسی باتیں نکل رہی ہیں۔ اﷲ پر توکل کیا اور چوب قلم ہاتھ میں لی۔ یقین فرمائیے کہ مَیں اس بڑے کام کا اہل نہیں۔ کہاں مجھ جیسا مجہول انسان اور کہاں اس افصح الفصحاء حضور سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان عالی شان مجھے اس پاک آستانہ سے نسبت ہی کیا:
فہم راز ش چہ کنم من عجمی او عربی لاف مہرش چہ زنم من حبشی اوقرشی
بھلا ان سرکار کے رموز و اشارات اور کلمات طیبات کے اسراء میں کیا سمجھ سکتا ہوں میں عجمی دیہاتی بے عِلم گنوار وہ عرب کے فصحاء کے سردار کِس منہ سے کہوں کہ ان کا چاہنے والا ہوں میں حبشی بدشکل وہ حسینوں کی رونق محفل۔ مگر کیا کروں حال یہ ہے۔
سُبْحَانَ اﷲِ مَا اَجْمَلَکَ مَاَ اَکْمَلَکَ مَا اَحْسَنَکَ کھتّے مِہر علی شاہ کتھے تیری ثناء گستاخ اکّھیں کتّھے جالڑیاں
صرف نیّت یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ فقیر کی اس خدمت سے کسی مسلمان بھائی کا ایمان بچالے۔ اور قیامت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے غلاموں اور جاں نثاروں کے کفش برداروں اور شارحین حدیث کے تابعداروں میں حشر نصیب فرمادے ، جو کوئی فقیر کی اس حقیر سی تصنیف سے فائدہ اٹھائے وہ اس فقیر بے نوا کے لیے معافی سیئات اور حسن خاتمہ کی دعا کرے کہا سی لالچ میں میں نے یہ محنت کی ہے اﷲ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور میرے لیے کفارہ سیئات و صدقہ جاریہ بنائے اور اس میں امداد کرنے والوں کو دین و دنیا میں شاد و آباد رکھے۔ اس شرح میں مرقاۃ المفاتیح اور لمعات واشعۃ اللمعات سے امداد لی گئی ہے اس کا نام مرأۃ المناجیح، شرح مشکوۃ المصابیح رکھتا ہوں۔ ربّ تعالیٰ اسے اسم بامسمّٰی بنائے کہ مشکوۃ شریف کی جھلک اس آئین میں نظر آئے اور یہ حقیر شرح کامیابیوں کا ذریعہ بنے، اس کا تاریخی نام ذوالمرآت ۱۳۷۸ھ ہے ۔ آمین ۔
وصلی اﷲ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ ونور عرشہ سیدنا و مولینا محمد والہ واصحابہ اجمعین برحمتہ وھو ارحم الراحمین
پننشبہ ۲/ رمضان المبارک ۱۳۷۸ھ ۱۲ /مارچ ۱۹۵۹ احمد یار خان نعیمی اشرنی بدایونی سرپرست مدرسہ غوثیہ گجرات مغربی پاکستان