| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم الحمدﷲ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نعوذ باﷲ من شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا من یھدہ اﷲ فلامضل لہ و من یضلل فلا ھادی لہ واشھد ان لا الہ الا اﷲ شھادۃ تکون للنجاۃ وسیلۃ
تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں ۱؎ ہم اسی کی حمد کرتے ہیں،اُسی سے مدد مانگتے ہیں،اُسی سے معافی چاہتے ہیں۲؎ اور اپنے نفسوں کی شرارت اور اپنے اعمال کی برائیوں سے رب کی پناہ مانگتے ہیں۳؎ جسے اﷲ ہدایت دے اُسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں،جسے اﷲ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۴؎ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۵؎ ایسی گواہی جو نجات کا وسیلہ اور بلندیٔ درجات
۱؎ یعنی ہر حامد کی محمود پر،ہر وقت،ہرنعمت پر،ہرطرح کی ہر حمد اﷲ تعالٰی ہی کی حمد ہے کیونکہ جسے جو ملا اسی کے دین سے ملا،لہذا وہ ہی ہر حامد کا محمود،ہر ساجد کا مسجود،ہر عابد کا معبود،ہر شاہد کا مشہود،ہر قاصد کا مقصود ہر طرح موجود ہے۔یا یہ مطلب ہے کہ اﷲ کی حقیقی وکامل حمد وہ جو اس نے اپنی کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"اَنْتَ کَمَااَثْنَیْتَ عَلٰی نَفسِك"
لہذا وہ خود ہی حامد ہے،خود ہی محمود،یا اس کی مقبول حمد وہ ہے جو اس کے بندۂ خاص محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی،یا محمدمصطفی کی کامل حمد وہ ہے جو ان کی ان کے رب نے کی،وہ اپنے رب کے احمد ہیں رب ان کا محمود،اور رب ان کا حامد وہ رب کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،غرض کہ الحمد کا الف لام یا استغراقی یا عہدی۔ ۲؎ تمام دنیاوی حاجات بلکہ خود حمدکرنے میں حقیقی مدد اسی سے مانگتے ہیں،اور حمد وغیرہ میں جو کوتاہی ہم سے ہوجائے اس کی معافی کے خواستگار ہیں۔خیال رہے کہ اﷲ کے مقبولوں کی مدد حقیقتًارب ہی کی مدد ہے۔ ۳؎ نفس کی شرارتوں سے اپنی خفیہ برائیاں مراد ہیں،اعمال کی برائیوں سے ظاہر خرابیاں مراد ہیں۔ہم ظاہر و باطن عیبی ہیں ان عیبوں کو خود دفع نہیں کرسکتے،نفس و شیطان سخت دشمن،بڑے دشمن کے مقابلہ میں بڑے مددگار کی پناہ درکار،ان دشمنوں سے رب کی پناہ،شیطان کے شر سے نفس امارہ کا شر قوی تر ہے کہ یہ مار آستین ہر وقت گھات میں ہے اس لیئے خصوصیت سے نفس کا ذکر ہوا۔ ۴؎ ہدایت کے دو معنی ہیں:راہِ خیر دکھانا،منزل مقصود پر پہنچادینا۔ایسے ہی اس کے مقابل ضلالت کے دو معنی ہیں:راہ شردکھانا،شرتک پہنچا دینا۔پہلےمعنی سے ہدایت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مرشد کامل یا قرآن کی طرف،یونہی ضلالت کی نسبت شیطان جن و انس یا نفس امارہ کی طرف ہوتی ہے۔مگر دوسرےمعنی سے ہدایت و ضلالت کی نسبت صرف اﷲ تعالٰی کی طرف،یہاں دوسرے معنی مراد ہیں،یعنی
لہذا وہ خود ہی حامد ہے،خود ہی محمود،یا اس کی مقبول حمد وہ ہے جو اس کے بندۂ خاص محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی،یا محمدمصطفی کی کامل حمد وہ ہے جو ان کی ان کے رب نے کی،وہ اپنے رب کے احمد ہیں رب ان کا محمود،اور رب ان کا حامد وہ رب کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،غرض کہ الحمد کا الف لام یا استغراقی یا عہدی۔ ۲؎ تمام دنیاوی حاجات بلکہ خود حمدکرنے میں حقیقی مدد اسی سے مانگتے ہیں،اور حمد وغیرہ میں جو کوتاہی ہم سے ہوجائے اس کی معافی کے خواستگار ہیں۔خیال رہے کہ اﷲ کے مقبولوں کی مدد حقیقتًارب ہی کی مدد ہے۔ ۳؎ نفس کی شرارتوں سے اپنی خفیہ برائیاں مراد ہیں،اعمال کی برائیوں سے ظاہر خرابیاں مراد ہیں۔ہم ظاہر و باطن عیبی ہیں ان عیبوں کو خود دفع نہیں کرسکتے،نفس و شیطان سخت دشمن،بڑے دشمن کے مقابلہ میں بڑے مددگار کی پناہ درکار،ان دشمنوں سے رب کی پناہ،شیطان کے شر سے نفس امارہ کا شر قوی تر ہے کہ یہ مار آستین ہر وقت گھات میں ہے اس لیئے خصوصیت سے نفس کا ذکر ہوا۔ ۴؎ ہدایت کے دو معنی ہیں:راہِ خیر دکھانا،منزل مقصود پر پہنچادینا۔ایسے ہی اس کے مقابل ضلالت کے دو معنی ہیں:راہ شردکھانا،شرتک پہنچا دینا۔پہلےمعنی سے ہدایت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مرشد کامل یا قرآن کی طرف،یونہی ضلالت کی نسبت شیطان جن و انس یا نفس امارہ کی طرف ہوتی ہے۔مگر دوسرےمعنی سے ہدایت و ضلالت کی نسبت صرف اﷲ تعالٰی کی طرف،یہاں دوسرے معنی مراد ہیں،یعنی اے مولٰی جسے تو منزل مقصود تک پہنچادے اسے پھر کوئی راہِ شر نہیں دکھا سکتا کہ وہ تو راستوں سے گزرگیا اور جسے تو اس کی بدکاریوں،بداعمالیوں کی وجہ سے کفرقطعی تک پہنچادے پھر اسےکسی کی راہبری کام نہیں دیتی۔لہذا اس خطبہ پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ گمراہی کی نسبت رب کی طرف کیسی!نہ یہ کہ جب خدانے بندہ کو گمراہ کردیا تو بندے کا کیا قصور،کاسِب بندہ ہے خالق مولٰی ۔ ۵؎ گواہئ توحید ساری مخلوق نے عقلی یا سمعی دی،مگر ہمارے حضور نے شہودی لہذا تمام مخلوق ثانوی گواہ ہے اور حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اوّلی یا حقیقی گواہ اسی لیے رب نے فرمایا:
'' یٰااَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاھِدًا ''
یعنی حضور نے اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات،جنت دوزخ وغیرہ کو دیکھ کرگواہی دی،چونکہ عینی گواہ پر گواہی مکمل ہوجاتی ہے اسی لیے رب نے فرمایا:
'' اَلْیَوْمَ اَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ''،
"لَآاِلٰہَ اِلَّااﷲُ"
کے معنی ہیں:
"لَامَعْبُوْدَ اِلَّا اﷲ"
یا
"لَامَقْصُوْدَ اِلَّااﷲ"
مگر ارباب شہود کہتے ہیں:
"لَا مَوْجُوْدَ اِلَّااﷲُ"۔
غرض کہ جیسا کلمہ پڑھنے والا ویسے اس کے معنی،کلمہ ایک ہے مگر زبانیں مختلف اس لیئے تاثیریں جداگانہ