Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-17 - 728
ولرفع الدرجات کفیلۃ و اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الذی بعثہ و طرق الایمان قد عفت اثارھا و خبت انوارھا و وھنت ارکانھا
کی ضامن ہو ۱؎ اور گواہی دیتا ہوں کہ یقینًا محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ  کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ۲؎جنہیں اللہ تعالٰی نے جب بھیجا،جب کہ ایمان کے راستوں کی نشانیاں مٹ چکی تھیں۳؎  اور اُن کی روشنیاں بجھ گئی تھیں۴؎  اور ان کے کنارے کمزور
۱؎ یعنی منافقوں کی سی گواہی نہیں دیتا جو زیادتی  کفر کا سبب ہو،بلکہ اخلاص و صدق سے گواہی دیتا ہوں جس سے کافر مؤمن ہوجاتا ہے اور مؤمن عارف بن کر بلند درجے پاجاتا ہے۔

۲؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کےبندے اوررسول اوررسول(پیغمبر)بھی ہیں اور ساری مخلوق کےرسول بھی،یعنی اللہ کے پیغام لانے والے،مخلوق کو پیغام پہنچانے والے،رب سے لینے والے،مخلوق کو دینے والے،لہذا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کے رسول اور یہ بھی کہ ہمارے رسول۔پھر حضور کفار کو عذاب کا پیغام دیتے ہیں،مؤمن وں کو ثواب کا،عاشقوں کو وصال کا،غرض حضور کی رسالت مختلف ہے۔نبی اور رسول کبھی ہم معنی ہوتے ہیں کبھی مختلف کہ نبی عام رسول خاص۔

۳؎ کیوں کہ عرب میں اسماعیل علیہ السلام کےبعدکوئی نبی تشریف نہ لائے تھے۔اس چار ہزار سال کے عرصہ میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی تعلیم لوگ بھول چکے تھے۔خیال رہے کہ عرب میں اور اولاد اسماعیل میں ہمارے حضور کے سوا کوئی نبی نہ آئے کہ جس آسمان پرسورج ہے اس پرکوئی تارا نہیں۔

۴؎  اس طرح کہ بنی اسرائیل جو دیگر ممالک میں جلوہ گر ہوئے ان کی ہلکی روشنیاں عرب میں پہنچیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کے بعدوہ بھی گل ہوکر رہ گئیں کہ انجیل مسخ کردی گئی،راہبوں پادریوں نے ان کی تعلیم بدل دی۔اگر کچھ بچے کھچے اصلی عیسائی تھے بھی تو وہ غاروں پہاڑوں میں روپوش ہوگئے۔اب دنیا میں اندھیرا ہی رہ گیا،اسی دورکو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔
Flag Counter