| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
و جھل مکانھا فشید صلوات اللہ علیہ و سلامہ من معالمھا ماعفا و شفا من العلیل فی تائید کلمۃ التوحید من کان علی شفاواوضح سبیل الھدایۃ لمن اراد ان یسلکھا و اظھر کنوز السعادۃ لمن قصد ان یملکھا۔
اور انکی جگہیں نامعلوم ہوچکی تھیں ۱؎حضور پر اللہ کی رحمتیں اور سلام ہوں ۲؎کہ آپ نے اسلام کے مٹے ہوئے نشان اونچے کردیئے،اور کلمۂ توحید کو تقویت دے کر ان بیماروں کو شفادے دی جو کنارہ پر تھے،۳؎ اور راہِ ہدایت کا راستہ اُن کے لیے صاف فرمادیا جو اس پر چلنا چاہے،اور خوش نصیبی کے خزانے اس کے لیے ظاہر فرمادیئے جو اُن کا مالک ہونا چاہے۴؎
۱؎ اس طرح کہ اصلی عقائد کے ساتھ صحیح عبادات بھی گم ہوکر رہ گئیں تھیں پتہ نہ لگتا تھا کہ ان بیماریوں کی دوا کہاں ملتی ہے اور ان کا حکیم کہاں ہے۔غرضکہ دنیا میں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا کیوں نہ ہوتا کہ ہدایت کا سورج نکلنے والا تھا۔جس سے عالم میں نور اور ظلمت کافور ہونے والی تھی۔ ۲؎ درود شریف میں صلوۃ وسلام دونوں عرض کرنا چاہئیں کہ قرآن کریم نے دونوں کا حکم دیا صرف صلوۃ یا صرف سلام بھیجنے کی عادت ڈال لینا ممنوع ہے۔(ازمرقات)اسی لیے درودِ ابراہیمی صرف نماز کے لیے ہےکیونکہ اس میں صرف صلوۃ ہے سلام نہیں۔سلام التحیات میں ہوچکا نماز کے علاوہ یہ درود مکمل نہیں کہ سلام سے خالی ہے۔اس کی پوری بحث درود شریف کی بحث میں آئے گی۔ ۳؎ اس طرح کہ حضور نے دنیا کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا،بت پرستی دفع کی،کلمۂ توحید کا اعلان فرمادیا اور جو دوزخ کے کنارے پہنچ چکے تھے انہیں بازو پکڑ کے ہٹالیا،ہرروحانی بیمارکو ہرطرح شفا دی،کسی سے یہ نہ فرمایا کہ تیری دوا میرے دارالشفاء میں نہیں۔ایسا کامل اکمل ہادی نہ آیا تھا نہ آئے۔خیال رہے کہ یہاں پہلا شفا شفاءٌ کا ماضی ہے یعنی حضورنے تندرستی وصحت بخشی،اور دوسرا شفا اسم جامد ہے بمعنی کنارہ یعنی جو ہلاکت یا جہنم کے کنارہ پرتھے انہیں صحت بخشی کہ کفارکو ایمان،فساق کو تقویٰ عطا کیا۔مصنف کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور شفا بخشتے ہیں یہ کہنا شرک نہیں۔ ۴؎ ظاہر یہ ہے کہ ہدایت سے مراد شریعت ہے،سعادت سے مراد طریقت۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت وطریقت دونوں بخشیں،قلب وقالب دونوں کا انتظام فرمایا۔کسی نے انکار کرکے دائمی بدبختی حاصل کرلی،کسی نے قبول کرکے دارین کی خوش نصیبی کمائی۔حضور نے انہیں مکہ والوں میں سے صدیق فاروق بنائے،رہزنوں کو راہبر،گمراہوں کو ہادی،بےعلموں کو دنیا بھرکامعلم بنادیا۔حضور کا فیض کعبہ کی دیواروں سے پوچھو،مکہ کے بازاروں سے پوچھو،منیٰ ومزدلفہ کےکوچوں سے پوچھو،عرفات کی بلندچوٹیوں سےمعلوم کرو کہ لوگوں نے کعبہ کو بت خانہ بنادیا تھا،حضور نے خانۂ خدا بنا کر تمام عالم کا مسجود الیہ بنادیا۔
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم