Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-15 - 728
اما بعد!  فان التمسك بھدیہ لا یستتب الا بالاقتفاء لما صدر من مشکوٰتہ والاعتصام بحبل اللہ لا یتم الا ببیان کشفہ و کان کتٰب المصابیح الذی صنفہ الامام محی السنۃ قامع البدعۃ ابو محمد الحسین ابن مسعود الفراء البغوی رفع اللہ درجتہ اجمع کتاب صنف
حمدوصلوۃ کے بعد جاننا چاہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مضبوطی سے حاصل کرنا ناممکن ہے بغیر اتباع کئے ان احادیث کے جو آپ کے سینہ سے صادر ہوئیں ۱؎ اور اللہ کی رسّی کا مضبوطی سے تھامنا مکمل نہیں بغیراس کے واضح بیان کے۲؎  اور کتاب مصابیح جو سنت زندہ کرنے والے،بدعت اکھیڑنے والے امام ابو محمد حسین ابن مسعود فرّاءبغوی کی تصنیف ہے۔اللہ تعالٰی اُن کا درجہ بلند کرے تمام ان کتب میں جامع تر تھی جو اس بارے میں لکھی گئیں۳؎
۱؎ یعنی ہرانسان پرحضورعلیہ السلام کی اطاعت فرض ہے اوریہ اطاعت بغیرحدیث و سنت جانے ناممکن ہے۔مشکوٰۃ یعنی طاق حضور انور کا سینہ مبارک ہے اور حضور علیہ السلام کے اقوال و احوال اس طاق کے چراغ ہیں،اگر روشنی چاہتےہوتو اس سینے اور ان الفاظ طیبہ سے حاصل کرو،قرآن کتاب ہے حضور علیہ السلام چراغ اور چراغ کے بغیر کتاب پڑھی نہیں جاتی۔حضور علیہ السلام کے بغیر قرآن سمجھا نہیں جاتا،ہر آیت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی حاجتمند ہے ورنہ ہمیں کیا خبر کہ اَقِیمُوْا کے کیا معنی اور صلوٰۃ و زکوۃ کسے کہتے ہیں۔

۲؎ اللہ کی رسی قرآن کریم ہے جو ہم نیچوں کو غارسے نکال کر اوپر پہنچانے آئی۔لیکن اس مضبوط رسی سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسے پکڑے گا۔اس رسی کے لانے والے بھی حضور ہیں،پھر ہمیں پکڑانے والےبھی حضور،پھرپکڑنے کےبعدچھوٹ جانے سےبچانے والےبھی حضور،کہ حضور کےذریعہ مخلوق کو قرآن ملا،حضور ہی کےسمجھائے قرآن سمجھاگیا۔حضورہی کی نگاہ کرم سے ان شاءاللہ مرتے دم تک اس پر عمل کیا اور انہیں کےکرم سے مرتے وقت بفضلہ کلمہ نصیب ہوگا۔جو حدیث کا انکاری ہے وہ صرف دو رکعت نمازپڑھ کریا ایک بار ایسی زکوۃ دےکر دکھادےجس میں حدیث کی مدد نہ ہو۔غرض کہ نماز وزکوۃ وغیرہ سنائی قرآن نے،سکھائی حضور نے،قرآن روحانی کھاناہے،حدیث اس کا پانی،پانی کے بغیرنہ کھانا تیار ہو نہ کھایا جاسکے۔

۳؎ یعنی فن حدیث میں بہت کتب لکھی گئیں،مگر کتاب مصابیح تمام کتب کی جامع کتاب ہے،اس کے مصنف حسین ابن مسعود ہیں۔آپ کی کنیت ابومحمدہے،لقب فراءکیونکہ پوستین کی تجارت کرتے تھے(فراءنحوی اور ہیں)ہرات وسرخس کے درمیان ایک بستی ہے بغو۔وہاں کے رہنے والےتھے لہذا بغوی کہلاتے ہیں۔خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تونے میری سنت زندہ کی اللہتجھے زندہ رکھے،لہذا خطاب ہوامحی السنہ۔شافعی المذہب ہیں،بڑےمتقی،عالم،زاہد،تارک الدنیابزرگ تھے،ہمیشہ روکھی روٹی،یا زیتون یاکشمش سے روٹی کھائی،اسی برس سے زیادہ عمر پا کر    ۵۱۶؁ھ مقام کرد میں وفات پائی،اپنے استاذ قاضی حسین کے پہلو میں دفن ہوئے۔آپ نے"مصابیح شرح السنۃ"،"تفسیرمعالم التنزیل"،"کتاب التہذیب"،"فتاویٰ بغوی"وغیرہ کتب تصنیف فرمائیں۔خیال رہے کہ مصابیح میں چار ہزار چارسوچونتیس حدیثیں تھیں صاحب مشکوٰۃ نے ایک ہزار پانچسو گیارہ احادیث کا اضافہ کیا لہذامشکوٰۃ شریف میں پانچ ہزار نو سو پینتالیس احادیث ہیں۔(ازمرقاۃ)
Flag Counter