Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-14 - 728
فی بابہ و اضبط لشوارد الاحادیث و اوابدھا و لما سلك رضی اللہ طریق الاختصار و حذف الاسانید تکلم فیہ بعض النقاد و ان کان نقلہ و انہ من الثقات کالاسناد لکن لیس ما فیہ اعلام کالاعفال فاستخرت اللہ
اورشوارد اوابدحدیثوں کی محافظ تھی ۱؎ چونکہ مصنّف نے طریقۂ اختصار اختیارکیا۲؎ اور اسنادوں کوچھوڑدیا،اس بارے میں بعض ناقدین نے چہ میگوئیاں کیں۳؎  اگرچہ مصنف کا نقل فرمادینا ہی اسناد کی مثل ہے۴؎ کیونکہ وہ معتبر ہیں مگر نشانیوں والا راستہ بے نشان راہ کی طرح نہیں۵؎  اس لیے میں نے اللہ سے خیر اور توفیق
۱؎ شوارد شاردہ کی جمع بمعنی نافرہ(بھڑکاہواجانور)یعنی وہ حدیثیں جو لوگوں کے ذہنوں سے قریبًا جاچکی تھیں،لوگ انہیں قریبًا بھول چکے تھے۔جیسےبھڑکا ہوا جانور اپنی جگہ سے بھاگ جاتا ہے۔اوابد آبدہ کی جمع ہے بمعنی وحشی جانور جو انسان سے نفرت کرے یعنی وہ احادیث جن کے مضامین فہم سے بالاتر ہیں سمجھ میں نہیں آتے جیسے وحشی جانور قبضہ میں نہیں ہوتایعنی مصابیح ان احادیث کی جامع ہے جنہیں لوگ بھول چکے تھے یا ان کی تخریج یا مضامین سے قریبًامایوس ہوچکے تھے۔

۲؎  اسی طرح کہ نہ تو احادیث کی اسناد میں بیان کیں نہ ان کا مخرج کہ کس کتاب کی یہ حدیث ہے۔خیال رہے کہ اسناد حدیث مجتہدین کو مفید ہےجس سے وہ حضرات حدیث کا مرتبہ،ناسخ منسوخ ہونا،تعارض کے وقت کسی کا رائج ہونا،کسی حدیث کامثبت استحباب ہونا،کسی کامثبت وجوب ہونامعلوم فرماتے ہیں۔مقلدین حضرات ان کاوشوں سے آزادہیں ان کےلیئے قول امام دلیل ہے اورحدیث امام کی دلیل،پولیس کے لیے حاکم کا فیصلہ دلیل ہے اورحاکم کےلیے تعزیرات ہند کے دفعات دلیل ہیں۔اس لیے صاحب مصابیح نے صرف متن حدیث نقل فرمایااسنادیں چھوڑدی تھیں۔(ازمرقات)خیال رہےکہ عبارتِ حدیث کومتن کہتے ہیں،راویوں کے سلسلہ کو اسناد اور اصل کتاب کا ذکر جہاں سے حدیث لی گئی ہو تخریج کہلاتاہے۔

۳؎  اس طرح کہ مصابیح کی احادیث پرشبہ کرنےلگے،کہنے لگے کہ جب نہ اسنادوں کا ذکرہے نہ تخریج معلوم،تو کیا معلوم اس کی احادیث صحیح ہیں یا نہیں۔ناقدین وہ حضرات کہلاتے ہیں جو صحیح اور ضعیف حسن وغیرہ میں امتیاز کریں،راویوں کے حالات سے خبر رکھیں،ان کی توثیق تعدیل وجرح کرسکیں۔

۴؎ یعنی امام محی السنۃ اس پایہ کے محدث ہیں کہ ان کاکسی حدیث کو بغیرجرح نقل فرمادینا اس حدیث کی قوت کی دلیل ہے،ان کی نقل گویا اسناد ہے۔اس عبارت سے دو مسئلہ معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقلد کو امام کی حدیث پر اعتمادکرلینا درست ہے،اسے حدیث کی چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں،مریض طبیب کے نسخے پر اعتمادکرے،اسےکتب طب کی تحقیقات ضروری نہیں۔دوسری یہ کہ ضعیف احادیث پر فقہاء کا عمل فرمالینا اس حدیث کو قوی کردیتا ہے۔

۵؎  لہذا تخریج بیان کردینے سے لوگوں کوطعن کا موقع نہ ملے گا اور صاحب مصابیح پر اعتراض نہ کرسکیں گے۔سبحان اللہ!کیسا ادب ہےکہ فرمایا نشانیوں والا راستہ یعنی مشکوٰۃ شریف بے نشان والے راہ یعنی مصابیح کی طرح نہیں۔مصابیح بہت اعلٰی ہے یہ ہے انکسارِنفس۔
Flag Counter