استخارہ کرلینے والا نقصان نہیں اٹھاتا،مشورہ سے کام کرنے والا شرمندہ نہیں ہوتا،اوردرمیانِ تصنیف میں اللہ سے توفیقِ اتمام مانگتا رہا۔فقیر احمدیاربھی بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ مولٰی بطفیل اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس بڑے کام کو بخیر و خوبی انجام دینے کی توفیق دے،اسے قبول فرما کر صدقہ جاریہ اور میرے گناہوں کا کفارہ بنا۔آمین یارب العالمین !
۲؎ اس طرح کہ ہر حدیث کے اول صحابی،راوی کا نام شریف اور آخر میں کتاب حدیث کا نام صراحۃً بتادیا۔
۳؎ یعنی جوحدیث مصابیح میں جس جگہ تھی میں نے بھی مشکوٰۃ میں وہاں ہی بیان کی،بلاوجہ آگے پیچھے نہ کی اور ہر حدیث میں محدثین کی روایات کی پیروی کی،جس طرح ان اماموں سے منقول تھی ویسے ہی میں نے نقل کی۔
۴؎ آپ کا نام شریف محمد،والد کا نام اسمعیل ہے،بخاریٰ جو ماوراءالہندمیں بہت بڑا شہر ہے وہاں آپ کی پیدائش ہوئی،اس لیئے آپ کو بخاری کہا جاتا ہے۔امت محمدیہ کے بڑے عالم،محدث،فقیہ،مجتہد تھے،آپ کے والد بڑے عالم اور حماد ابن زید و امام مالک کے شاگرد تھے،والدہ ماجدہ وَلِیَّہ،مستجاب الدعوات تھیں۔آپ بچپن شریف میں نابینا ہوگئے تھے،علاج سے اطباء عاجز ہوگئے،آپ کی والدہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھا،فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نےتیری دعاقبول کی تیرے بچہ کو انکھیارہ کیا،صبح کو آپ کی آنکھیں روشن تھیں،آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے مکھیاں اڑا رہا ہوں۔تعبیر دی گئی کہ تم احادیث کی خدمت کرو گے،صحیح سے ضعیف کو دور کرو گے۔آپ کو ۳ لاکھ حدیثیں یاد تھیں،ایک لاکھ غیر صحیح،دو لاکھ صحیح،مسجد حرام شریف میں سولہ۱۶ سال میں صحیح بخاری شریف تالیف فرمائی،ہمیشہ غسل فرماکردونفل پڑھ کرلکھتےتھے،آپ کی ولادت ماہ شوال جمعہ کا دن بعدعصر۱۹۴ ھ(ایکسو چورانوے)میں بخاریٰ میں ہوئی،عمر شریف باسٹھ ۶۲ سال پائی، ۲۵۶ھ مقام خرتنگ میں وفات پائی،آپ نے بادشاہ وقت کی طرف سےتنگ ہوکرخودہی اپنی وفات کی دعا کی،تہجدکودعا کی دوسرے دن وصال ہوگیا،خواب میں دیکھا گیا کہ حضور مع جماعت صحابہ کسی کا انتظار فرمارہے ہیں،پوچھنے پر ارشادہوا ہم محمد ابن اسماعیل کو لینے آئے ہیں۔عرصہ تک آپ کی قبر سے مشک کی خوشبو آتی تھی،مٹی بھی مہکتی ہوئی تھی،بخاری شریف میں کل احادیث نوہزار بیاسی ہیں،جن میں مکررات اور تعلیقات سب شامل ہیں،مکررات کو نکال کر کل دو ہزار چھ سوتئیس۲۶۲۳ احادیث ہیں،جن میں سے بائیس حدیثیں ثلاثی ہیں،اگر مکررات نکال دی جاویں توسولہ یعنی جن میں امام بخاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف تین واسطے ہیں۔بعد قرآن شریف صحیح تر کتاب بخاری مانی گئی ہے۔مصیبتوں میں ختم بخاری کیا جاتا ہے،جس سے بفضلہ تعالٰی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔(مرقاۃ)امام بخاری نے علاوہ بخاری شریف حسب ذیل کتب لکھیں۔
(۱)ادب المفرد(۲)رفع الیدین(۳)قراۃ خلف الامام(۴)برالوالدین(۵)التاریخ الکبیر(۶)الاوسط(۷)الصغیر (۸)خلق افعال العباد(۹)کتاب الضعفاء(۱۰)جامع کبیر(۱۱)مسند کبیر(۱۲)تفسیر کبیر(۱۳)کتاب الاشربہ (۱۴)کتابہ الہیہ(۱۵)اسامی الصحابہ(۱۶)کتاب الوجدان(۱۷)کتاب العلل(۱۸)کتاب الکنٰی(۱۹)کتاب المبسوط (۲۰)کتاب الفوائد۔
مگر بخاری شریف زیادہ مشہور و معتبر ہے،آپ نے اٹھارہ ہزار محدثین سے احادیث نقل کیں،ایک لاکھ محدثین آپ کے شاگرد ہیں۔جن میں امام مسلم،ترمذی،ابن خزیمہ۔ابی زرعہ ابو حاتم،نسائی زیادہ مشہور ہیں۔امام محمد ابن احمد ہروزی فرماتے ہیں:کہ میں بیت اللہ شریف سے متصل سورہا تھا کہ میں نے حضور کو خواب میں دیکھا فرماتے ہیں:تم میری کتاب کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے پوچھا حضور آپ کی کتاب کون سی ہے؟ فرمایا:محمد ابن اسمعیل بخاری کی کتاب"صحیح بخاری"۔
۵؎ آپ کانام شریف مسلم ابن حجاج نیشاپوری ہے،بنی قشیرہ قبیلہ کےہیں،آپ نےبہت کتابیں لکھیں۔
مسلم،مسندکبیر،جامع کبیر،کتاب العلل،اوھام المحدثین،کتاب التمییز،طبقات التابعین،کتاب المخضرمین وغیرہ۔
مگر ان سب میں مسلم شریف زیادہ مشہورومعتبر ہے،تین لاکھ حدیثوں سے منتخب کرکے چار ہزار حدیثیں اس میں جمع کی گئیں۔مسلم شریف میں اسی۸۰سے کچھ زیادہ حدیثیں رباعی ہیں جس کی اسناد میں صرف چار راوی ہیں۔آپ کی ولادت ۲۰۴ھ میں حضرت شافعی کی وفات کے کچھ عرصہ بعدہوئی،وفات ماہ رجب ۲۶۱ھ میں ہوئی،ستاون سال عمر شریف ہوئی،ایک دفعہ آپ سےکوئی حدیث دریافت کی گئی آپ نے تمام رات وہ حدیث تلاش کرنے کےلیئے کتب کا مطالعہ شروع کیا،کسی نے کھجوروں کی ٹوکری برابر میں حاضر کردی،ایک ایک کھجور کھاتے رہے اور حدیث ڈھونڈتے رہے،صبح کو حدیث مل گئی،ٹوکری ختم ہوگئی۔اسی وجہ سے وفات ہوئی،نیشاپور میں قبرشریف ہے۔