Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
42 - 48
مزارپر چادر چڑھانا
	  بُزُرگانِ دین اور اولیاء وصالحین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِینکے مزاراتِ طیِّبات پر غِلاف( یعنی چادر) ڈالنا جائز ہے، جبکہ یہ مقصود ہو کہ صاحِبِ مزار کی وَقْعَت(یعنی عزَّت وعَظَمت) عوام کی نظر میں پیدا ہو،ان کا ادب کریں ، ان کے بَرَکات حاصل کریں ۔ 
(رَدُّالْمُحتارج۹ص۵۹۹)
قَبْر پر پھول ڈالنا
	 قَبْر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تَر رہیں گے تسبیح کرینگے اور میِّت کا دل بہلے گا۔ 
قَبْر پر اگر بتّی جلانا
	  قَبْر کے اوپر’’ اگر بتّی‘‘ نہ جلائی جائے اِس میں سُوئے ادب( یعنی بے اَدَبی) اور بد فالی ہے ( اور اس سے میِّت کو تکلیف ہوتی ہے) ہاں اگر(حاضِرین کو) خوشبو(پہنچانے)کے لیے(لگانا چاہیں تو) قَبْر کے پاس خالی جگہ ہو وہاں لگائیں کہ خوشبو پہنچانا مَحبوب (یعنی پسندیدہ)  ہے ۔ 		(مُلَخَّصاً فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ص  ۴۸۲،۵۲۵)
قَبْر پر موم بتّی رکھنا
	  قَبْرپر چَراغ یا موم بتّی وغیرہ نہ رکھے کہ یہ آگ ہے، اور قَبْر پر آگ رکھنے سے میِّت کو اَذِیَّت (یعنی تکلیف) ہوتی ہے، ہاں رات میں راہ چلنے والوں کے لیے روشنی مقصود ہو، تو قبر کی ایک جانب خالی زمین پر موم بتّی  یاچَراغ رکھ سکتے ہیں ۔