Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
43 - 48
مزارات پرچَراغاں کرنا
	اگرشَمعیں روشن کرنے میں فائدہ ہو کہ مَوضَعِ قُبُور میں مسجِد ہے یاقُبور سرِراہ(یعنی راستے میں)  ہیں یا وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے یا مزار کسی ولیُّ اللہیا مُحَقِّقِین عُلَماء میں سے کسی عالِم کا ہے، وہاں شَمعیں روشن کریں ا ن کی رُوحِ مبارَک کی تعظیم کے لیے جو اپنے بدن کی، خاک پر ایسی تجلّی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر، تاکہ اس روشنی (یعنی لائٹنگ) کرنے سے لوگ جانیں کہ یہ ولی کا مزارِ پاک ہے تاکہ اس سے تَبَرُّک  (یعنی برکت حاصل)کریں او ر وہاںاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعامانگیں کہ ان کی دُعا قَبول ہو،تو یہ اَمْر جائز ہے اس سے اَصلاً مُمانَعَت نہیں ، اور اعمال کا مدار نِیّتوں پر ہے ۔
(فتاوٰی رضویہ’’مُخَرّجہ‘‘ ج ۹ ص ۴۹۰، اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ  ج۲ص۶۳۰)
قَبْر کا طواف
	    قَبْرکا طواف کرنا منع ہے ۔ (فتاویٰ رضویہج۹ مخرجہ ص۵۲۷ملتقطًا)
قَبْر کو سجدہ کرنا
	   قَبْرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیِّت ہو توکُفْر ہے۔
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ص۴۲۳) 
	  کبھی کبھی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لئے بھی جایاکریں ۔ ان کے مزاروں پر فاتحہ پڑھیں ۔ سلام کریں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں اس سے ماں باپ کی اَرواح کو خوشی ہوگی اور فاتحہ کا ثواب فرشتے نور کی تھالیوں میں رکھ کر ان کے سامنے پیش کریں گے اور ماں باپ خوش ہو کر اپنے بیٹے بیٹیوں کو دعائیں دیں گے۔ (جنتی زیور ص۹۴)