(قبرِستان میں قبریں پاٹ کر) جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اُس پرچلنا حرام ہے ۔ (رَدُّالْمُحتار ج۱ ص۶۱۲) بلکہ نئے راستے کا صِرف گمانِ غالب ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔ (دُرِّمُختارج۳ص۱۸۳دارالمعرفۃ بیروت )کئی مزاراتِ اولیاء پر دیکھا گیا ہے کہ زائرین کی سَہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مِسمار (یعنی توڑ پھوڑ) کر کے فرش بنادیاجاتا ہے،ایسے فرش پر لیٹنا، چلنا،کھڑا ہونا ، تِلاوت اور ذِکرو اَذکار کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے،دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے
مزارشریف یا قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول نہ ہو۔ (فتاوٰی عا لمگیری ج۵ص۳۵۰)
سرہانے سے نہ آئیں
زیارتِ قبر میّت کے مُوَاجَہَہ میں (یعنی چِہرے کے سامنے) کھڑے ہو کر ہو اور اس( یعنی قبر والے) کی پائِنتی( پا۔ اِن۔تِی یعنی قدموں ) کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ اُسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔
(فتاوٰی رضویہ مخرجہ ج ۹ص۵۳۲رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور )
قَبْر کو بوسہ نہ دیں
قَبْرکو بوسہ نہ دیں ، نہ قَبْر پر ہاتھ لگائیں (فتاوٰی رضویہ’’ مخرّجہ‘‘ ج ۹ص۵۲۲، ۵۲۶) بلکہ قَبْرسے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو جائیں ۔