Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
40 - 48
مسلمانوں کی قبروں کی زیارت سنّت ہے 
	قبورِمسلمین کی زیارت سنّت اور مزاراتِ اولیاء ِکرام و شہداء عظام رَحمَہُمُ اللہُ السلام کی حاضری سعادت بَر سعادت اور انہیں ایصالِ ثواب مَندُوب (یعنی پسندیدہ ہے)۔ (فتاوٰی رضویہ مخرّجہ ج ۹ص۵۳۲)ہر ہفتہ میں ایک دن زِیارت کرے،جمعہ یا جمعرات یا ہفتہ یا پیر کے دن مناسب ہے، سب میں افضل روزِ جمعہ وقتِ صبح ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱ حصہ ۴ص۸۴۸)
 مَزاراتِ اولیا سے نَفْعْ ملتا ہے
	  اولیاءے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامکے مزاراتِ طَیِّبہ پر سفر کر کے جانا جائز ہے، وہ اپنے زائر کو نفع پہنچاتے ہیں اور اگر وہاں کوئی منکرِ شرعی ہو مثلاً عورتوں سے اِختلاط تو اس کی وجہ سے زِیارت تَرک نہ کی جائے کہ ایسی باتوں سے نیک کام تَرْک نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے بُرا جانے اور ممکن ہو تو بُری بات زائل کرے۔ (بہارِ شریعت ج۱ حصہ ۴ص۸۴۸)
شہداء کرام کے مزارات پرسلام کا طریقہ
	  شہداء کِرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامکے مزاراتِ طاہِرات کی زیارت کے وقت اس طرح سلام عرض کیجئے:سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِترجَمہ: تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے، پس آخِرت کیا ہی اچّھا گھرہے ۔       (فتاوٰی عا لمگیری ج۵ص۳۵۰) 
 قبروں پر پاؤں نہ رکھے 
	  قبرِستان میں اُس عام راستے سے جائے،جہاں ماضی میں کبھی بھی مسلمانوں کی قبریں نہ تھیں ، جو راستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے۔ ’’رَدُّالْمُحتار‘‘میں ہے: