ہے کہ اگر تو حمیدی سے دَر گزر کرے گا تو میں تجھے جنت میں محل دلاؤں گا۔‘‘ اس نے نہ صرف میرا قرض معاف کردیا بلکہ مجھے مزید چھ درہم بھی دے دیئے۔ حضرت سیدنا علامہ سَخاوی علیہ رحمۃُ اللہِ القویفرماتے ہیں : یہ تجربہ ہے کہ حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے مزار پر دُعا قبول ہوتی ہے۔ یہ قبرمصر میں سیِّدہ نفیسہ (بنت حسن بن زید بن حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم)کے مزار کے مغرب میں واقع ہے اور اس پر قُبہ بنا ہوا ہے۔ (جامع کرامات اولیاء، ج۱،ص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قرض معاف کرنے کی فضیلت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس ایمان افروز حکایت میں قرض معاف کرنے کا بھی ذکر ہے ، اس کی بھی بڑی فضیلت ہے:چنانچہ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے مروی ہے کہ حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِراً اَوْ وَضَعَ لَہُ اَظَلَّہُ اللہُ یومَ الْقِیا مَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہِ یومَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہ یعنی جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا قرض معاف کردے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا کہ جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔(ترمذی، کتاب البیوع،ج۳،ص۵۲،الحدیث۱۳۱۰)
ہائے! حُسنِ عمل نہیں پلّے گرمیِ حشْر، پیاس کی شدّت
حشْر میں میرا ہوگا کیا یاربّ جامِ کوثر مجھے پِلا یاربّ
(وسائلِ بخشش،ص۸۸)