کئے بغیر حتی المقدور اپنے مُردوں کو مزارات اولیاء کے قریب دفن کرنا چاہئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اولیاء کرام کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : اپنے مُردو ں کو بُزُرگو ں کے پاس دَفن کرو کہ اِن کی بَرَکَت کے سبب اُن پر عذاب نہیں کیا جاتا ۔ھُمُ الْقَوْمُ لاَیَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُم۔(یعنی)یہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین(یعنی صحبت میں رہنے والا ) بھی محروم نہیں رہتا ۔ ولہٰذا حدیث میں فرمایا :اَدْفِنُوْا مَوْتَاکُمْ وَسْطَ قَوْمِ الصّٰلِحِیْن (یعنی ) اپنے مُردوں کو نیکوں کے درمیان دفن کرو۔ (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الخطابج۱ ص۱۰۲ حدیث۳۳۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۱) قرض معاف ہوگیا
حضرت سیدنا حمیدیعلیہ رحمۃُ اللہِ القویفرماتے ہیں : مجھ پر قرض تھا ،اسی پریشانی کے عالَم میں حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی علیہ رحمۃُ اللہِ القویکے مزار شریف پر حاضر ہوا۔ میں نے قرآن پاک کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور رو دیا،ایک زائر (یعنی مزار کی زیارت کے لئے آنے والے)نے میرا رونا سن لیا اور مجھے کچھ سونا دیا اورکہا: اس صاحب ِ مزار کی خاطر یہ سونا لے لو۔ میں نے وہ سونا لیا اور چل دیا، ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ میرا قرض خواہ آگیا، مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا : یہ سونا اُس زائر کو واپس کردیں کیونکہ میں اَجرو ثواب کا اُس کی نسبت زیادہ حق دار ہوں ۔ میں نے قرض خواہ سے اِس معافی کا سبب دریافت کیا کہ آپ کو میرا خیال کس نے بتایا ہے؟ وہ کہنے لگا:’’ میں نے اس قبر والے بزرگ کو خواب میں دیکھا، انہوں نے مجھے کہا