واجِب ہے کہ اُن خُرافات کو دل سے بُرا جانے اور اِن میں شامل ہونے سے بچے۔ بلکہ اُن کی طرف دیکھنے سے بھی خود کو بچائے۔ (فیضانِ بسم اللہ، ص۸)
عُرْس میں ناجائز کام ہوں تو صاحبِ مزار کو تکلیف ہوتی ہے
اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمنکی خدمت میں عرض کی گئی : حُضُوْر! بزرگانِ دِین کے اَعْرَاس میں جو اَفعال ناجائِز ہوتے ہیں ان سے ان حضرات کو تکلیف ہوتی ہے؟توارشاد فرمایا :بِلَاشُبہ اور یہی وجہ ہے کہ اِن حضرات نے بھی تَوَجُّہ کم فرمادی ورنہ پہلے جس قَدَرفُیُوض ہوتے تھے وہ اب کہاں !(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ،ص۳۸۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۹) اندھے کو آنکھیں مل گئیں
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 26 صفحات پر مشتمل رسالے ’’خوفناک جادوگر ‘‘کے صفحہ 19پرشیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہلکھتے ہیں : ایک بار اَورنگ زَیب عالمگیر علیہ رَحْمَۃُ اللہ القدیر سلسلۂ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا خواجۂ خواجگان، سلطانُ الھند حضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری علیہ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کے مزارِ پُراَنوار پر حاضر ہوئے۔ اِحاطہ میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگارہا تھا: یا خواجہ غریب نواز