Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
25 - 48
 اس بندۂ ناچیز پر رَحْمت و مَعُونَت ہے ۔ شکر بجا لایا اور حاضِر مُواجَہَۂ عالِیہ ہوکر مشغول رہا ۔ کوئی آواز نہ سنائی دی ،جب باہَر آیا پھر وُہی حال تھا کہ خانقاہِ اقدس کے باہَر قِیام گاہ تک پہنچنا دشوار ہوا ۔ فقیر نے یہ اپنے اوپرگُزری ہوئی گزارِش کی ،کہ اوّل تو وہ نعمتِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ  تھی اور ربَّعَزَّوَجَلَّفرماتاہے: وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ﴿٪۱۱﴾ ’’ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں کو لوگوں سے خوب بیان کر ۔‘‘ مَع ھٰذا اِس میں غُلامانِ اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰیکیلئے بِشارت اور مُنکِروں پر بَلا و حسرت ہے۔ الہٰی!عَزَّوَجَلَّ صَدَقہ اپنے محبوبوں (رِضْوانُ اللّٰہِ تعالیٰ علیھم اَجمعین ) کاہمیں دنیا و آخِرت و قَبْر و حَشْر میں اپنے محبوبوں عَلَیہِمُ الرِّضْوَان  کے بَرَکاتِ بے پایاں سے بَہرہ مند فرما۔  (اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعاء ص ۱۴۰) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حِکایت’’ بائیس خواجہ کی چَوکھٹ دِہلی شریف‘‘ کی ہے ۔اِس میں تاجدارِ دِہلی حضرت سیِّدُنا خواجہ محبوبِ الہٰی نظام ُالدّین اولیا ءرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نُمایا ں کرامت ہے۔اِس حِکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باِلفرض اگر مزاراتِ اولیاء پر جُہَلاء غیر شَرْعی حَرَکات کررہے ہوں اور ان کو روکنے کی قُدرت نہ ہو تب بھی اپنے آپ کو اَہلُ اللّٰہ  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰیکے درباروں کی حاضِری سے محروم نہ کرے۔ ہاں مگر یہ