Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
27 - 48
 رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ! آنکھیں دے۔آپ نے اس فقیر سے دریافت کیا:بابا!کتنا عرصہ ہوا آنکھیں مانگتے ہوئے؟ بولا: برسوں گزر گئے مگر مراد پوری ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا: میں مزارِ پاک پر حاضِری دے کر تھوڑی دیر میں واپَس آتا ہوں اگر آنکھیں روشن ہوگئیں فَبِہا (یعنی بَہُت خوب) ورنہ قتل کروا دوں گا۔ یہ کہہ کر فقیر پر پہرالگا کر بادشاہ حاضِری کے لئے اندر چلے گئے۔ اُدھر فقیر پر گِریہ طاری تھا اور رو رو کر فریاد کررہا تھا: یا خواجہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ! پہلے صرف آنکھوں کا مسئلہ تھا اب تو جان پر بن گئی ہے، اگر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے کرم نہ فرمایا تو مارا جاؤں گا۔ جب بادشاہ حاضری دے کر لوٹے تو اُس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں ۔ بادشاہ نے مسکرا کر فرمایا: تم اب تک بے دِلی اور بے توجُّہی سے مانگ رہے تھے اور اب جان کے خوف سے تم نے دل کی تڑپ کے ساتھ سوال کیا تو تمہاری مُراد پوری ہوگئی۔
 (خوفناک جادوگر، ص۱۹)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے ہمیں یہ درس ملا کہ فیض پانے کیلئے تڑپ سچی اور اِعتِقاد پکّا ہونا چاہئے ، ڈِھلمِل یقین( یعنی کچّے یقین )والا نہ ہو، مَثَلاً سوچتا ہو کہ فُلاں بُزُرگ سے یا فُلاں ولیُّ اللہ کے مزار پر حاضِری دینے سے نہ جانے فائدہ ہو گا یا نہیں ہو گا وغیرہ۔ ایسا شخص فیض نہیں پا سکتا ۔ نیز فیض ملنے میں وقت کی کوئی قید نہیں ہو گی اپنا اپنا مقدَّر ہو تا ہے کسی کو فور اًفیض مل جاتا ہے کسی کا برسوں تک کام نہیں ہوتا۔ کام ہو یا نہ ہو ’’یَک دَر گِیرو مُحکَم گِیر یعنی ایک دروازہ پکڑ اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ‘‘ کے مِصداق