Brailvi Books

مزارات اولیاء کی حکایات
24 - 48
علیہ رحمۃ الرحمن جب 21 برس کے نوجوان تھے اُس وَقْت کا واقِعہ خود اُن ہی کی زَبانی ملاحَظہ ہو ، چُنانچِہ فرماتے ہیں : سَتْرہویں شریف ماہِ فاخِر ربیعُ الآخِر۱۲۹۳؁ھ  میں کہ فقیر کو اکیسواں سال تھا۔اعلیٰ حضرت مصنِّف عَلّام سیِّدُنا الوالِدقُدِّسَ سِرُّہُ الماجِد و حضرت مُحِبُّ الرسول جناب مولیٰنا مولوی محمد عبدالقادِر صاحِب بدایونی  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے ہمراہِ رِکاب حاضِرِ بارگاہِ بیکس پناہ ِحُضور پُر نُور محبوبِ الہٰی نظامُ الحقِّ وَالدّین سلطانُ الْاَولیاء رَضِیَ اللہ تعالٰی عنہہوا۔حُجرۂ مُقدَّسہ کے چار طرف مجالسِ باطِلہ لَہْو و سَرَوْد گرْم تھیں ۔شور و غَوغا سے کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔دونوں حضراتِ عالیات اپنے قُلوبِ مُطْمَئِنّہ کے ساتھ حاضِرِمُواجَہَۂ اَقدس ( مُ۔وا۔جَ۔ہَ۔ ئِ۔ اَقدس )ہوکر مشغو ل ہوئے ۔ اِس فقیرِ بے تَوقیرنے ہُجومِ شور و شَر سے خاطِر( یعنی دل ) میں پریشانی پائی ۔دروازۂ مُطہَّرہ پر کھڑے ہوکر حضرتِ سلطانُ الْاَولیاء رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ سے عرض کی کہ اے مولیٰ ! غلام جس کیلئے حاضِر ہوا ،یہ آوازیں اس میں خَلَل اندازہیں ۔ (لفْظ یِہی تھے یا ان کے قَریب ،بَہَرحال مضمونِ مَعْروضہ یِہی تھا ) یہ عرض کرکے بِسمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں دروازۂ حُجرۂِ طاہِرہ میں رکھا بِعَونِ رَبِّ قدیر وہ سب آوازیں دَفْعَۃً گُم تھیں ۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ لوگ خاموش ہورہے ،پیچھے پھر کر دیکھا تو وُہی بازار گَرْم تھا ۔قدم کہ رکھا تھا باہَر ہٹایا پھر آوازوں کا وُہی جوش پایا ۔ پھر بِسمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں اندر رکھا ۔ بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی پھر ویسے ہی کان ٹھنڈے تھے ۔اب معلو م ہوا کہ یہ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کا کرم اور حضرتِ سلطانُ الْاَ ولیاء رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کی کرامت اور