ہونے والے اجتماعی اعتِکاف میں شرکت کی سعادت ملی، ایک دن بیان میں مبلِّغِ دعوتِ اسلامی نے میرے مُتَعلِّق مَدَنی بہار سنائی تو ایک اسلامی بھائی کو مجھ سے بَہُت ہمدردی ہو گئی اور انہوں نے عیدُ الفِطرکے تقریباً ایک ہفتے بعد مجھے ملازَمت پر لگوادیا ، پھر میری مَدَنی ماحول میں شادی بھی ہوگئی، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!تادمِ تحریر ڈویژن سطح پر ’’مجلسِ ڈاکٹرز‘‘اور ’’مجلسِ کھیل‘‘کے رُکن کے طورپراپنی سنّتوں بھری تحریک،’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کی ترقّی کے لئے کوشاں ہوں ۔میری یِہی مَدَنی بہار دنیا کے واحد حقیقی اسلامی چینل’’ مَدَنی چینل ‘‘پر بھی دکھائی اورسنائی گئی تو مجھے حیدر آباد کے اسلامی بھائی کا فون آیا کہ یہاں پر ایک بدمذہب آپ کی مَدَنی بہار دیکھ کربَہُت مُتأَثِّر ہوا ہے اور آپ سے ملنا چاہتا ہے، اگر آپ سمجھائیں گے تو اُمّید ہے وہ توبہ کر لے گا ، میں اِنفِرادی کوشِش کی نیّت سے حیدر آباد پہنچ گیا، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!اُس بدمذہب نے نہ صِرف خود بُرے عقائد سے توبہ کی بلکہ اُس کے اکثر گھروالے بھی تائِب ہو گئے اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوکر سرکارِ غوثِ پاک رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے مُرید بن گئے۔اللہ تعالٰی مجھے اور میرے کُنبے کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استقامت عنایت فرمائے۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
گِرپَڑ کے یہاں پہنچا،مر مر کے اسے پایا
چھُوٹے نہ الٰہی !اب سنگِ درِ جانانہ
(سامانِ بخشش ص۱۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد