ابوجان کہاں ہیں ؟تو ایک بُزُرگ نے کمرے کے پچھلے حصّے کی طرف اِشارہ کیا۔وہاں گیا تو والِد صاحِب اندھیرے میں بیٹھے زاروقطار رو رہے تھے۔میں نے رونے کا سبب پوچھا: جواب دیا:ہر ایک ان بُزُرگوں کو تحفے پیش کر رہا ہے مگر میں کیا پیش کروں ، تم مجھے کچھ بھجواتے ہی نہیں !یکا یک ایک نور کا طشت میرے ہاتھ میں آ گیا،میں نے والدِ مرحوم کو دے دیا،والِد صاحِب مجھے ساتھ لئے کمرے میں داخِل ہو گئے اور نُورانی چِہرے والے بُزُرگ کی خدمت میں وہ نُورانی تھال پیش کردیا۔پھر ہم وہاں سے باہَر نکل آئے،اُس وَقت میرے دل میں خیال آیا کہ ہو نہ ہویہ نُورانی چہرے والے بُزُرگ میرے نُور والے آقا محمدِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تھے۔پھر میری آنکھ کُھل گئی۔دیکھا تو میرا جسم خوشبو سے مَہَک رہا تھا۔یہ ایمان افروز خواب دیکھنے کے بعد میں نے تمام گناہوں سے سچّی پکّی توبہ کی اور امیرِقافلہ کے ہاتھوں اپنے سر پر سبز سبز عِمامہ شریف سجا لیا اور داڑھی شریف بڑھانے کی بھی نیَّت کرلی ۔
کچھ ہی دنوں بعد میں نے دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں 63 روزہ مَدَنی تربیّتی کورس اور41دن کا مَدَنی قافِلہ کورس کرنے کی سعادت پائی۔ پھرمیں نے امامت کورس میں بھی داخِلہ لیا، چند ہی دن گزرے تھے کہ میں نے 12ماہ کے مَدَنی قافِلے میں سفر کے لئے خود کو پیش کردیا ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضانُ المبارَک(۱۴۲۶ھ۔2005ء)میں عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں