تھے جو مجھے داتا حضور رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مزار پر ملے تھے اور مجھے باب المدینہ آنے کا فرمایا تھا۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے مجھ پر بہت شفقت فرمائی ،اسی دوران اور ایک مبلِّغ دعوتِ اسلامی ورُکن شوریٰ سے بھی ملاقات ہوئی تو اُن کی اِنفِرادی کوشِش سے میں نے سنّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر اختیار کیا۔ جب امیرِ قافِلہ نے سیکھنے سکھانے کے حلقے میں غسل کا طریقہ بتایاتو میرا دل اُچھل کر حَلق میں آگیا کہ یاخدا! میں تو ناپاکی کی حالت میں ہوں ، فوراًمسجِد سے باہَر نکلا اور اُسی وَقت غسل کیا۔ مَدَنی قافِلے میں بتائے جانے والے طریقے کے مطابِق میں نے رات صلٰوۃُ التَّوبہ پڑھی اور سوگیا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ والدۂ مرحومہ چاند سا چہرہ چمکائے مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام میں نَماز ادا کررہی ہیں ،سلام پھیرنے کے بعد اُنہوں نے مجھے گلے لگا لیا۔میں رونے لگا،امّی جان نے کہا:اب میں بَہُت خوش ہوں ،آؤ!نَماز پڑھتے ہیں ،فارِغ ہوکر میں نے ابُّوجان کے بارے میں پوچھاتو اُنہوں نے ایک طرف اشارہ کیا۔میں اُس طرف چل دیا، چلتے چلتے ایک بَہُت بڑے میدان میں پہنچ گیا،درمیان میں شیشے کا ایک کمرہ تھا،بَہُت سے لوگ اُس کے اندر جانے کی ناکام کوششیں کررہے تھے، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں بڑے آرام سے اندرچلا گیا،وہاں پانچ بُزُرگ تھے،ایک بُزُرگ جو درمیان میں قدرے اُونچائی پر تشریف فرما تھے،اُن کے چِہرے پر اتنا نُور تھا کہ نگاہ نہیں ٹھہر رہی تھی۔میں نے اُن بُزُرگوں سے پوچھا: میرے