کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے اور زمانے کے ولی قبلہ شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے ذریعے مرید بن کر ''عطاری'' ہوچکے تھے، انہی بَرَکتوں کے طفیل سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجا رہتا۔ سخت کمزوری اور تکلیف کے باوُجود جب تک زندہ رہے کوئی نماز قضاء نہیں ہونے دی بلکہ لوگ اس بات پر حیران تھے کہ یہ اس حالت میں بھی اپنے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے عطا کردہ مَدَنی انعامات کے مطابق معمول رکھتے مَثَلاً اشراق وچاشت، اوابین اور صلوٰۃ التوبہ کی پابندی کے ساتھ رات اہتمام سے سورۃ الملک سُنا کرتے ۔ ایسا لگتا کہ ان کی کوشش ہے کہ میں ''72مَدَنی انعامات'' کا ایسا عامل بن جاؤں کہ مرشِدِ کریم کا ''منظورِ نظر'' کہلاؤں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّّ اُن کی زبان پَرسارادن کَلِمَہ طَیِّبہ