کَلِمَہ طَیِّبہ کا وِرْد جاری رہا۔ کمزوری کے باعث نمازِ عشاء اشاروں میں ادا کی اور 18 اگست2004 میں نمازِفجر مسجد میں ادا کرکے پہنچاتودیکھا بھائی جو سہارے کے بغیراُٹھ نہیں سکتے تھے بغیر سہارے اٹھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور والدہ انہیں سنبھال رہی ہیں ، میں نے قریب پہنچ کر بھائی سے پوچھا، کیا بات ہے کہاں جانا ہے؟ تو بھائی بولے،'' وہ دیکھو سامنے میرے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ تشریف لائے ہیں'' ۔ یہ کہنے کے بعد ان کا جسم ڈھیلاپڑگیا،میں نے سہارا دے کر انہیں بستر پر لِٹایا۔پھر دیکھا تو ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کرچکی تھی۔