لطیف آباد نمبر ۱۰(حیدرآباد) کے اسلامی بھائی کے بيان کا خلاصہ ہے کہ ذُوْالْحِجَّۃِ الْحرام ۱۴۲۴ھ 12 بجے دوپہر میری بارات روانہ ہونی تھی ، میرے والد نصرت عطاری (جن کی عمر کم و بیش65سال تھی )نے بارات روانہ ہونے سے پہلے مجھے اپنے کمرے میں بلوایا اور کہنے لگے :''بیٹا!آج تمہارا نکاح ہے، اپنے پیرو مرشِد امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العالیہ کے عطا کردہ شجرہ قادریہ عطاریہ میں سے ''شجرہ عالیہ '' بلند آواز سے پڑھو پھر بارات لے کر چلیں گے تاکہ اس کی بَرَکتیں حاصل ہوں ۔ باہر باراتی اصرار کرنے لگے کہ دیر ہورہی ہے جلدی کریں مگر والد صاحب نے فرمایا کہ جب تک ہم اپنا'' شجرہ عالیہ '' نہیں پڑھیں گے، بارات لیکر نہیں جائیں گے ۔ ميں نے ''شجرہ عاليہ'' پڑھا اور جب بارات گھر سے نکلنے لگی تو والد صاحب نے بتایاکہ میرا شجرہ