| مدینےکا مسافر |
طور پَر نمازِجنازہ کے وقت مطلع ابر آلود ہو گيا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی پھوار برسنے لگی ۔
دفن کرنے میں بارش ہونا نیک فال ہے
اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد 9صَفْحَہ373پر ایک سُوال کے جواب میں ارشاد فرمایا : ''(وقتِ دفن)بارشِ رحمت' فالِ حسن ہے خصوصاً اگر خلافِ عادت ہو۔واﷲتعالٰی اعلم''
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(9)خوش نصیب عطّا ری
سرفراز کالونی(حیدرآباد) گلی نمبر4کے مقیم اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح کا بیان ہے کہ میرے والد محمد انور عطاری جن کی عمر کم و بیش 65سال تھی۔1996 میں قبلہ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مُرید ہوئے اور سنّت کے مطابق داڑھی رکھنے کے ساتھ سر پر سبز عمامہ شریف بھی سجالیا۔ پنج وقتہ باجماعت نماز کا معمول بن گیااور دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماعات میں بھی شرکت فرمانے لگے۔ ایک روز طبیعت ناساز ہونے پَر ''سول ہسپتال''