گلزارِطیبہ(پنجاب پاکستان) کے مقيم اسلامی بھائی کے بيان کا خلاصہ ہے کہ ہماری 70 سالہ دادی جان ۱۴۰۵ھ ميں قبلہ شيخِ طريقت امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی مريدنی بن کر''عطاريہ'' بن گئيں۔اس کی بَرَکت سے نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ دیگر سُنن و مستحبات پر بھی عمل پیرا ہو گئیں۔اکثر وقت تسبيحات پڑھنے ميں گزرتا۔اپنے پيرو مُرشد امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے بے حد لگاؤ تھا۔ ۱۲ ربیع النورشریف کے دن سرکار صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی ولادت کی خوشی ميں سفيد بالوں ميں مہندی لگائی،نيا لباس پہنا،عصر کی نماز کے لئے تياری شروع کی۔وضو کرکے جیسے ہی فارغ ہوئیں بے ہوش ہو کر گر پڑیں ۔ فوراً ہسپتال لے جايا گيا۔ مگردادی جان نے راستے ميں ہی دم توڑ ديا۔ گرمی انتہائی شدیدتھی مگر حیرت انگیز