اورجو چیزمیرے آقاو مولا، ہم بے کسوں کے حاجت روا، غریبوں کے آسرا، شاہِ ہردوسرا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو محبوب ہو،میں اسے کیوں محبوب نہ رکھوں! محبت کاتقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اپنے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہرسنّت وادا کومحبوب رکھیں اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندکواپنی پسند بنائیں جس طرح کہ صحابہ کرام و اولیاء عظام رحمہم اللہ السلام نے اپنے محبوب آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری اداؤں کوحِرْزِجان بنالیا، چُنانچِہ صَحِیْحَیْن(یعنی بخاری ومسلم) میں ہے،حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''ایک خَیّاط (درزی۔ Tailor) نے سرکار نامدار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مَدعُو کیا تو میں بھی ساتھ چلاگیا، اُس نے جَوشریف کی روٹی اورشوربہ پیش کیا جس میں کدُّوشریف اورخُشک گوشت کی بوٹیاں تھیں۔ میں نے دیکھاکہ سرکارِدوعالم،نورِ