| مدنی مذاکرہ قسط 1:وضو کے بارے میں وسوے اور ان کا علاج |
فرمانِ مصطَفٰے (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ):جو مجھ پر روزِ جُمُعہ دُرُودشریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شَفاعت کروں گا۔
شامِل ہوگیا تو نَماز ہوگی یا نہیں؟ جواب: مقتدی نے امام کو رُکوع میں پایا اور تکبیرِتَحریمہ کہتا ہو ا رکوع میں گیا یعنی تکبیر اس وقت ختم ہو ئی کہ ہا تھ بڑھائے تو گھٹنے تک پہنچ جائے تو نماز نہ ہو گی۔
(بَہَارِ شَرِیعَت حصّہ ۳ ص۷۶ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)
جَمَاعَت میں شریک ہونے کاطریقہ
سُوال: امام کو رُکوع میں پائیں تو جماعت میں کس طرح شریک ہوں ؟ جواب: ایسی صورت میں پہلے سیدھے کھڑے کھڑے تکبیرِتَحریمہ کہہ لیجئے۔ اگر معلوم ہے کہ اِمام رُکوع میں دیر کرتاہے اوروہ ثنایعنی سُبْحٰنَک َاللّٰھُمَّ پڑھ کر بھی اِمام کے ساتھ رُکوع میں شریک ہو جائے گا تو پڑھ کر تکبیرِرُکوع کہتا ہوا جماعت میں شامل ہو،یہ سُنَّت ہے۔ ہاں اگر سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ کہنے کی فرصت نہ ہو یعنی اِحْتِمال ہوکہ