دارُالسّلام (ٹوبہ)کے ایک اِسلامی بھائی کا حلفیہ بیان ہے کہ میں ایک مسجد میں اِمامت کے فرائض سرانجام دے رہاتھا کہ وضو کے بارے میں وَسوَسوں کا شکار ہو گیا۔ ہوا یوں کہ جب بھی نماز پڑھانے لگتا، ایسامحسوس ہوتا کہ وضو ٹوٹ گیا ہے ،مَیں سمجھا شاید ریح کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔چنانچہ بہتیرا علاج کیا مگر اِفاقہ نہ ہوا۔مقتدی بھی طرح طرح کی چہ میگوئیاں کرنے لگے،اِمامت کی ذِمّہ داری کی وجہ سے روز بروزمیری پریشانی میں اِضافہ ہونے لگا حتّٰی کہ اِمامت کرنا میرے لئے دُشوار ہوگیا ۔ پھر خوش قسمتی سے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اِجتماع سے ایک رسالہ ''وَسوَسے اور اُن کا علاج'' ۱؎مل گیا۔