میرے آقائے نعمت ،امامِ اہلِسنّت ،مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اپنی تمام بحث کا خلاصہ ارشاد فرماتے ہیں: ''(وسوسہ کی)تین حالتیں ہو تی ہیں :ایک تو یہ کہعَدُو (شیطان)کا وسوسہ مان لیا، اس پر عمل کیا یہ تو اس ملعون کی عین مُراد ہے اور جب یہ(آدمی) ماننے لگا تو وہ کیا ایک ہی بار وسوسہ ڈال کر تھک رہے گا ؟ حاشا(ہرگز نہیں) !وہ ملعون آٹھ پَہَر اس کی تاک میں ہے یہ (آدمی)جتناجتنا مانتا جا ئے گا وہ اس کا سلسلہ بڑھاتا جائے گا یہاں تک کہ نتیجہ وہی ہو گا دودوپہر کامل دریامیں غوطے لگا ئے اور سر نہ دُھلا۔دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اس (شیطان)کے ساتھ نزاع و بحث میں مصروف ہو جا ئے یہ بھی اس کے مقصدِ ناپاک کا حصول