Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 1:وضو کے بارے میں وسوے اور ان کا علاج
18 - 48
فرمانِ مصطَفٰے (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ):اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذِکْر ہو اور وہ مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھے۔
وضو ٹوٹنے )پریقین نہ ہو لے۔''
 (فَتَاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج۱ ص۷۷۴ مرکز الاولیاء لاھور)
'' تُو جھوٹا ہے''
 (الاحسان بترتیب صحیح ابن حِبّان ج۴ص۱۵۳حدیث۲۶۵۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
جب تک وضو ٹوٹنے کا ایسا یقین نہ ہو کہ جس پر قسم کھا سکے تو وسوسوں کا اعتبار نہ کرے ،شیطان جب کہے، تیرا وضو جاتا رہا،توتُو دل میں جواب دے کہ خبیث تُوجھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے ،جیسا کہ حضرت سیِّدُناابو سعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روا یت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو فوراً اسے دل میں جواب دے کہ تُو جھوٹا ہے یہاں تک کہ اپنے کانوں سے آواز نہ سن لے یااپنی ناک سے بُو نہ سونگھ لے ۔''
Flag Counter