آخر میں میرے شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت ،بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفیٰ عَزَّوَجَلََّّّ وَ صَلَی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ میں ڈوبے ہوئے مکتوب کا اِقتباس پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں ۔
چنانچہ فرماتے ہیں:تمام اسلامی بھائی مجسم خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ عَزَّوَجَلََّّّ وَ صَلَی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ بنے رہیں ،دِل لگا کر اِخْلاص کے ساتھ ''دعوتِ اسلامی'' کا مدنی کام کرتے رہیں ۔اگر کوئی اچھا کام آپ کے ہاتھوں سَراَنجام پاجائے تو اپنا کمال تصّور کرنے کے بجائے محض ربِّ تعالیٰ عَزَّوَجَلََّّّ کی عطا جانیں۔اُس(عَزَّوَجَلَّ ) کی بے نیازی سے توجہ نہ ہٹائیں ،اِبلیس نے (ایک روایت کے مطابق)80ہزار بَرس عِبادت کی مگر تکبّر کرکے بد بخت کافِر ہو گیا ۔بَلْعَمْ بِن بَاعُوراء اور ابنِ سقاء بہت بڑے علماء گزرے ہیں مگر انجامِ کار اِیمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔آہ! آہ! آہ! ہم نہیں جانتے کہ ہمارے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خُفیہ تَدبیرکیا ہے؟تشویش !