حالات و واقِعات نامُوَافِق(مُ۔وا۔فِق)یعنی دُرُست نہ ہونے کی صورت میں دِل چھوٹا کرنے ،حوصلہ ہارنے اور اُلٹی سیدھی تدبیریں اِختیار کرنے کے بجائے دُعا کی طرف تُوجہ کریں۔ میرے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسُنّت ،بانی دعوتِ اسلامی دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں ''دُعا سے غَفْلت نہ برتی جائے ،ہم مَصْلِحتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، ''بڑوں''کی خُوشامدیں کرتے نہیں تھکتے مگر سب سے بڑے اور حقیقی کار ساز، ربِّ بے نیازعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دِل کی اَتھاہ گہرائیوں کے ساتھ رُجُوع لانے میں کوتاہی کرجاتے ہیں حالانکہ دُعا تقدیر بدل دیتی ہے۔ سخت حاجت کے وقت ذمہ داران مل کر ''ختمِ غوثِیہ'' وغیرہ پڑھ لیں ''صَلٰوۃُ الاَسْرَار'' شریف کا سِلسِلہ شروع ہوجائے نمازِ حاجت کی ترکیب ہو تو مدینہ مدینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ازمکتوب امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ )