| مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے |
جن کا تقسیم کرنا'' دعوتِ اسلامی'' کے لئے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے وہ خود ہی کرنا ہوں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کی تنظیمی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس راہِ تقسیم میں تجربات اورانتخاب میں ناکامی بھی ہو سکتی ہے لہٰذااِس سے دِل برداشتہ نہیں ہونا چاہے۔ چنانچہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مکتوب کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ''ہمارا منصب کام کرکے دِکھانا نہیں،جُہدِمُسلسل کئے جانا ہے یقیناً ناخنِ تدبیر، گرہِ تقدیر کوکھولنے سے قاصِر ہے، جو مقسوم و مقدرہے وہ ہو کر ہی رہے گا ۔ ''
ہِمّت ہارنا چھوڑ دیں
ہم دیکھتے ہیں کے ایک شخص خوب تفتیش و غور و خوض کے بعد اپنی لختِ جِگر یعنی بیٹی کی شادی کردیتا ہے اگر اس کی بیٹی کو بد قسمتی سے طَلَاق ہو جائے تو وہ گھر بٹھانے کے بجائے دوبارہ بِیاہ دیتا ہے ۔بات صرف سمجھانے کے لئے ہے۔ آئیے! ہم امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ''سفرِ دعوتِ اسلامی'' پر غور کریں کہ آپ نے کِن کِن اسلامی بھائیوں پر اعتماد کرکے اُن کو مدنی کام تفویض کئے مگر جو کچھ وَاقِعات رُونُما ہوئے،وہ ہم سے پوشیدہ نہیں مگر قربان جائیے !اِن کی ہمت ،حوصلہ اور بلند و بالا عزمِ بالجزم پر کہ آپ کی تقسیم کاری کا سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے ۔