ہے۔
(۱۱) ہر کام کے لئے وقت کی حدودمُعَیَّن(مُ۔عی۔یَنْ)یعنی مقرر کیجئے۔
(۱۲) کسی چھوٹی سی کامیابی کے بعد خرگوش کی طرح مت ہو جائیے ورنہ کچھوا اپنے عمل ِ مسلسل سے آگے نکل جائے گا۔
(۱۳) جو کام بھی کریں اس میں توازُن،تَواتُراور تَسلسُل ضرور برقرار رکھیں ۔
(۱۴) تَسَاہُل(غفلت وسُستی)ایک بیماری اور اِنتہائی نُقْصان دَہ نشہ ہے ۔
(۱۵) تَساہُل،سُست روی،اورتاخیراور''پھر کبھی''ہمارے دشمن ہیں۔
(۱۶) ذِمّہ دار کی شخصیت کا غیر منظم ہونا بھی مُعاملات میں اُلجھاؤ اور فیصلوں میں تاخیر کا باعِث ہوتا ہے۔
(۱۷) اپنے پرائم ٹائم(خصوصی اوقات) میں اپنے پرائم کام(خصوصی کاموں) کا تعین کیجئے ۔
(۱۸) ''کل کریں گے''یہ ایک دھوکا ہے ۔
(۱۹) پیر پر اِعتراض،مُرید کی صَلاحیتوں کا دُشمن ہے ۔