مل گیا مگر ایک سوتا(نکاس) بند کیا جاتا تو دُوسرے سوتے (یعنی نکاس)سے پانی خارج ہونے لگتا اور یوں نہر کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رہا ۔تیسرے گروہ کا مَدَنی ذِہن بنا ہوا تھا، اُس نے دونوں گروہوں سے عبرت حاصل کی، نہر کو روکنے کی کو شش کی نہ سوتے بند کئے بلکہ انہوں نے اُس نہر کے بہاؤ کو حسبِ منشاء راہ پر لگا کر اُس کا رُخ بنجر زمینوں اورقابلِ زراعت کھیتوں کی جانِب پھیردیا اور جگہ جگہ ضرورت کے لئے پانی کے تالاب بنادیئے نتیجہ یہ نکلا کہ ساری زمین سبزہ زار بنی اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی آ گئی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح ہمیں بھی اسلامی بھائیوں کو اُن کی قابلیت و اہلیّت اوردِل چسپی کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے تَدَبُّر اور حِکمت کے ساتھ مَدَنی کام سِپُرد کرنے چاہیں۔چنانچہ منقول ہے:''لِکُلِّ فَنٍّ رجالٌ یعنی ہر فن کے مرد ہوتے ہیں۔''