Brailvi Books

مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے
58 - 70
ہے کہ ــ''آپ سمجھدار ہیں، آپ خود کر لیں گے''بعض اوقات فرماتے ہیں ـ''آپ خود کرلیں اگر نہ ہو تو میں حاضر ہوں ''اسطرح سُننے والے کو حوصلہ ملتا اور جب یہ محسوس کرتا ہے کہ میرے بڑوں کو مجھ پر اِعتماد ہے تو وہ اُس مدنی کام کو بہتر انداز پر کرنے کے لئے جان لڑا دیتا ہے ۔

     ایسا بھی ہوا کہ کوئی اسلامی بھائی مَدَنی کام کی اَنجام دَہی میں غَلَطی کرگیا ۔ لیکن میرے آقا، شیخِ طریقت دامت برکاتہم العالیہ نے وہاں بھی حوصلہ اَفزائی کی ایسی مثالیں قائم فرمائیں کہ ان مَناظِر کو دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔آپ بارہا فرماتے ہیں ''جو گاڑی سڑک پر چلتی ہے اُسی کو حادِثہ پیش آتا ہے ''۔
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب!     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صَلَاحِیتوں کے مُطابِق تقْسیم
    حضرت سَیِّدُنَا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے کام کرنے کا انداز یقیناکامِل و اَکمل تھا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دیئے ہو ئے اُصُولوں پر عمل آج بھی جاری ہے ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ''کسی ایسے شخص کو کوئی ایسا کام سِپُرد نہ کیاجائے کہ جس کے کرنے کی اُسے رَغبت نہ ہو اور جس کے بارے میں وہ پوری طرح مطمئن نہ ہو (سِوائے مجبوری کے)تاکہ کارکردگی بہتر ہو ۔''
Flag Counter