ہے کہ ــ''آپ سمجھدار ہیں، آپ خود کر لیں گے''بعض اوقات فرماتے ہیں ـ''آپ خود کرلیں اگر نہ ہو تو میں حاضر ہوں ''اسطرح سُننے والے کو حوصلہ ملتا اور جب یہ محسوس کرتا ہے کہ میرے بڑوں کو مجھ پر اِعتماد ہے تو وہ اُس مدنی کام کو بہتر انداز پر کرنے کے لئے جان لڑا دیتا ہے ۔
ایسا بھی ہوا کہ کوئی اسلامی بھائی مَدَنی کام کی اَنجام دَہی میں غَلَطی کرگیا ۔ لیکن میرے آقا، شیخِ طریقت دامت برکاتہم العالیہ نے وہاں بھی حوصلہ اَفزائی کی ایسی مثالیں قائم فرمائیں کہ ان مَناظِر کو دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔آپ بارہا فرماتے ہیں ''جو گاڑی سڑک پر چلتی ہے اُسی کو حادِثہ پیش آتا ہے ''۔