مُطابق وقت گزاریں۔ اُن سے تنظیمی اُمُور پر سُوالات کریں اور اُن کے مسائل سُنیں، اگر چہ اِس عمل میں انتہائی نَفْس کُشی اورمَشَقَّت بھی ہے لیکن موتی بھی اُسی غَوطہ خُور کو ملتے ہیں جوسَمُندر کی تہہ میں جاتا ہے۔ میرے شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسُنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ایک مکتوب کا اِقْتِباس (اِق۔تِ۔باس)پیشِ خدمت ہے ۔
فرماتے ہیں ''نایاب موتی غَوّاص(غَو۔واص) یعنی غوطہ خور ہی کو ملتے ہیں، سطحِ آب پر اُبھرتے ہو ئے نُمائشی بُلبُلوں کے صِرْف نظّارے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ،آپ گہرائی میں جائینگے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّّ دعوتِ اسلامی کی بقاء کے انمول موتی بھی پائیں گے ۔(ازمکتوب امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ)