Brailvi Books

مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے
49 - 70
دُنیوی اَغْراض ومقاصِد کے حُصُول کے لئے مانیں۔اگر ایسا ہوا تو ہم ''دعوتِ اسلامی'' کے مدنی کاموں کی رُوحانی برکات سے محروم اور اِستقامت کھو سکتے ہیں۔

     اے کاش! ہمیں فرائض و واجبات و سُنَن ومُستحبات کے ساتھ ساتھ حُسنِ اخلاق کی برکات اورزبان کا زبر دست قُفلِ مدینہ نصیب ہوجائے ۔ہم سَنجیدہ اور باوقار بن کر اسلامی بھائیوں میں مدنی کاموں کی تقسیم اور اِس کے تقاضوں کو بجالائیں تو دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقیوں کی وہ مدنی بہاریں دیکھنا نصیب ہوں گی کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

رَفتار کا، گُفتار کا، کِردار کا دے دے

ہر عُضْو کا دے مجھ کو خُدا قُفلِ مدینہ (عَزَّوَجَلَّ)

(ارمُغانِ مدینہ از امیرِ اہلسُنّت دامت برکاتہم العالیہ)
تقسیم کاری کاعمل حُسنِ اَخْلاق کے بِغیر کامل نہ ہوگا
     تقسیم کاری کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ جِسے مدنی کام سپرد کیا جارہا ہے اُس کو نہ صرف اُس مدنی کام بلکہ اُس تقسیم کرنے والے سے بھی پیار اور محبت ہو اور یقیناً یہ حُسنِ اخلاق کے بِغیر ممکن نہیں۔آہ !کاش! ایسا کرم ہو کہ ہمیں خُلقِ عظیم سے حصّہ نصیب ہو جائے۔
Flag Counter