(سنن ابی داؤد کتاب الوتر،باب فی الاستعاذۃ،الحدیث۱۵۴۶،ج۲،ص۱۳۰)
ساری بھلائیاں اور ساری بُرائیاں
اِن آیات و احادیث کی وضاحت سے اندازہ لگائیے کہ ساری کی ساری بھلائیاں حُسنِ اخلاق میں اور ساری کی ساری بُرائیاں بد اَخْلاقی میں پوشیدہ ہیں ۔ جس طرح حُسْنِ اَخْلاق کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی اورعزت ملتی ہے اِسی طرح بد اَخْلاقی لوگوں کی نظر سے گراتی اور بے عزّت کراتی ہے ۔ اب جو (نادان)ذمہ دار ماتحت کی نظروں میں گر جائے تووہ بھلا کِس طرح تقسیم کاری کے بھرپور مدنی نتائج حاصل کر سکے گا ۔لِہٰذا نگران و ذمہ دار کو ہر اُس عادت سے اِجتنا ب کرناچاہیئے کہ جس سے اُس کے ماتحت اسلامی بھائیوں میں مُنافَرت (مُ۔نا۔فَ۔رَت) یعنی نفرت پھیلے اور وہ دُور بھاگیں یا اُس کی بات محض منصب اور