Brailvi Books

مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے
48 - 70
دُعائے مُصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ
    رحمتِ عالم،نبی  مکَرّم،حبیبِ ربِّ اکرم عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دُعا فرمایاکرتے۔'
'اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَ سُوۤءِ الْاَخْلَاقِ
ترجمہ:اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں تیری پناہ مانگتا ہوں مُنافَرت (لوگوں سے نفرت کرنا)،مُنافقت سے اور بُرے اخلاق سے ۔''
 (سنن ابی داؤد کتاب الوتر،باب فی الاستعاذۃ،الحدیث۱۵۴۶،ج۲،ص۱۳۰)
ساری بھلائیاں اور ساری بُرائیاں
    اِن آیات و احادیث کی وضاحت سے اندازہ لگائیے کہ ساری کی ساری بھلائیاں حُسنِ اخلاق میں اور ساری کی ساری بُرائیاں بد اَخْلاقی میں پوشیدہ ہیں ۔ جس طرح حُسْنِ اَخْلاق کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی اورعزت ملتی ہے اِسی طرح بد اَخْلاقی لوگوں کی نظر سے گراتی اور بے عزّت کراتی ہے ۔ اب جو (نادان)ذمہ دار ماتحت کی نظروں میں گر جائے تووہ بھلا کِس طرح تقسیم کاری کے بھرپور مدنی نتائج حاصل کر سکے گا ۔لِہٰذا نگران و ذمہ دار کو ہر اُس عادت سے اِجتنا ب کرناچاہیئے کہ جس سے اُس کے ماتحت اسلامی بھائیوں میں مُنافَرت (مُ۔نا۔فَ۔رَت) یعنی نفرت پھیلے اور وہ دُور بھاگیں یا اُس کی بات محض منصب اور
Flag Counter