Brailvi Books

مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے
37 - 70
آپ ہی ذِمّہ دار ہیں
    ایک شخص کو گھر کی نگہداشت کی ذِمّہ داری دی گئی ،وہ رات کو چولھا جلتا چھوڑ کر سوگیا ۔رات آگ نے پورے گھر کو جلا کر راکھ کردیا ۔اب اگر وہ کہہ دے کہ میں کیا کرتا میں تو سویا ہوا تھا ،مجھے کیا معلوم آگ کس طرح لگ گئی ۔یقینا اِس کا یہ عُذر قبول نہیں کیا جائیگا بلکہ اِس کو یہ بات باور کرائی جائیگی کہ آپ پہلے آگ بجھاتے پھر سوتے۔ کاش!غفلت و سُستی سے چُھٹکارا نصیب ہو جائے ۔
اَللّٰہُمَّ اِنّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعِجْزِ وَالْکَسَل۔
ترجمہ:اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں کمزوری و سُستی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔
اٰمِین بِجاہِ النَّبِیّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ
تَوَازُن(تَ۔وا۔زُن)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات قابلِ غور ہے کہ مدنی کام اور تنظیمی اِختیارات میں توازن کا ہونا نا گُزیر ہے۔ عدمِ تَوازُن کے باعِث آپ کا ماتحت عدمِ اعتماد ،جلدتھکن ،معاذ اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّّ بد دِیانتی اور پھر زبردست ناکامی کا نمونہ بن سکتا ہے لہٰذا حسبِ ضرورت وسائل و اِختیارات کا ہو نا بہت اہم عمل ہے ۔اِس کے لئے آپ کامناسب وقفے ،نرمی و شفقت،تدبیر و حکمت سے مدنی انداز میں پُوچھ گَچھ
Flag Counter