| مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے |
اِمام فخر الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی کا قول ہے کہ میں نے سُوْرَۃُالْعَصْر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا، جو بازار میں صدا لگا رہا تھا کہ رحم کرو اُس شخص پر کہ جس کا سرمایہ گُھلتا جارہا ہے ،رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلتا جارہا ہے اُس کی یہ بات سن کر میں نے کہا: یہ ہے
وَالْعَصْرِoاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍo
کا مطلب ، عمر کہ جو زندگی انسان کو دی گئی ہے وہ بَرَفْ کے گُھلنے کی طرح تیزی سے گُزر رہی ہے ، اِس کو اگر ضائِع کیا جائے یاغَلَطْ کاموں میں صَرْف کردیا جائے تو اِنسان کا خسارہ ہی خسارہ ہے ۔(تفسیرالکبیر،ج۱۱،ص۲۷۸)
اَمیرِ اہلسُنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور وقْت کی قَدر
ہمارے شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت،بانی دعوتِ اسلامی دامت برکاتہم العالیہ کو اِنتہائی کم وقت میں بہت بڑی کامیابی نصیب ہوئی اور چار دانگِ عالَم میں آپ کی دِینی خِدْمات کاشُہرہ پھیل گیا ۔اِس کی وجوہات میں ایک نُمایاں وجہ وقت کی قدر بھی ہے ۔
آپ(دامت برکاتہم العالیہ) نے اپنے شب و روز کو ایک مدنی مقصد کے حُصُول کے لئے بہترین انداز میں تقسیم کیا۔نماز ،اَذکار،اوراد و وظائف، بیانات، مُطَالَعَہ، روزوں کا تَسَلسُل،نوافل کی کثرت،مدنی مشورے،مَدَنی مذاکرے ،سَحَری ،