یعنی اپنے نفس کو حق کے ساتھ مشغول کر ،ورنہ وہ تُمہیں باطل کے ساتھ مشغول کردے گا ۔( قیمۃالزمن عند العلما (ترجمہ وتلخیص)، ص ۱۵)
ہمارے عُلماءِ کرام وقت کی اہمیت کا اِحساس بیدار کرنے کے لئے سُوْرَۃُ الْعَصْر بیان کرتے ہیں چنانچہ پارہ۳۰ میں ارشاد ہوتا ہے ۔
وَالْعَصْرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسْرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ٪﴿۳﴾
ترجمہ کنز الایمان:اِس زمانہ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصا ن میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
''خزائنُ الْعِرْفان ''میں دوسری آیت کے تحت خلیفہ اعلیٰ حضرت مفسّر قرآن،صدر الافاضل مُفتی سید محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی فرماتے ہیں: اِس کی عُمْر جو اِس کا رَأسُ ا لْمَال ہے اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم گھٹ (کم ہو)رہی ہے ۔(خزائنُ الْعِرْفان،ص۱۰۸۲)