Brailvi Books

مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے
28 - 70
ہیں۔ یہ کہہ کر وہ صندوقچی میں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کردی ۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِسے دیکھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظرسُرخ،زرداور سبز رنگ کے چمکتے ہوئے نگینوں پر پڑی تو غُصّے سے آگ بگولہ ہو گئے اور فرمایا: ابھی ابھی جاکر اِس ہار کو مُجاھِدین میں تقسیم کردو اورسُنو! آئندہ کبھی بھی ایسا نہ کرنا ۔(کتب تاریخ)

اللّٰہ عَزَّوجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ
     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبحان اللہُ عَزَّوَجَلَّ! قربان جائیے!یہ ہے اِحساسِ ذِمّہ داری کہ اتنی بڑی سلطنت کی فرمانروائی ،سارے مسلمانوں کی پیشوائی، مگر اِس کے باوجود بنفسِ نفیس مہمانوں کی خیر خواہی کی نگرانی ،کھانے اور اُٹھنے بیٹھنے میں سادَگی،نئے آنے والے کی حوصلہ افزائی اور مُلاقات میں عاجزی و اِنکساری ، سلطنتِ اسلامی کی بہتری و ترقّی کے لئے فکر مندی ،لوگوں کے اَحوال سے آگاہی اور تحفہ مِلنے پرخَفَگی(خَ۔فَ۔گی)یعنی ناراضگی۔ 

    کاش! یہ حکایت ہمارے اندر احساسِ ذمہ داری کا جذبہ پیدا کردے اور
Flag Counter