واقِعات بالتفصیل پیش کیے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفصیلات سُن کر ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے ہم پر بے اِنتہا اپنا فضل و کرم فرمایا !پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا :کیا تُمہارا بصرہ سے گزر ہوا ؟میں نے عرض کی ہاں یااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پُوچھا :مسلمانوں کا کیا حال ہے؟میں نے بتایا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِعَزَّوَجَلََّّخیریت سے ہیں۔ دریافت فرمایا :بازار میں اَشیاءِ صَرف کے نَرخ کیسے ہیں؟عرض کی: چیزیں بہت سستی ہیں۔پوچھا گوشت کا کیا بھاؤ ہے ؟ گوشت عَربوں کی مرغُوب غِذا ہے ۔ جب تک گوشت نا ملے تو اِنہیں تسلّی نہیں ہوتی۔میں نے بتایا گوشت تو وافرمِقدار میں دَستیاب ہے۔
پھر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس صندوقچی کی طرف دیکھا جو میں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی ۔ پُوچھا یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ عرض کیا، جب ہمیں اللّٰہ عَزَّوجَلََّّّ نے دُشمن پر غلبہ دیا تو ہم نے مالِ غنیمت جَمْع کیا ۔ حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ہار دیکھا تو لشکر سے پوچھا:اگر یہ ہار تم میں تقسیم کردیاجائے تو کسی کا کچھ نہ بنے گا ۔ اگر تم بخوشی مجھے اِجازت دے دو تو میں یہ ہار امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خِدمت میں بطورِ تحفہ بھیج دُوں ۔سب نے کہاہاں ضرور بھیجئے،ہم خوش