| مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے |
پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :ہمیں پانی پلاؤ،تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں سَتّو کا ایک بھرا ہوا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا پہلے مہمان کو پلاؤ ۔میں نے پیالہ پکڑا اور تھوڑے سے سَتّو نوش کئے ۔میں نے محسوس کیا کہ جو سَتّو میں نے اپنے لئے تیار کروائے ہیں وہ اِس سے کہیں بہتر اور عمدہ ہیں ۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیالہ پکڑا اور سَتّو نوش فرمائے ۔اور یہ دُعاء پڑھی:
''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَاَشْبَعَنَاوَسَقَانَا واَرْوَانَا
(ترجمہ )''شکر ہے اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کا جس نے ہمیں کِھلایا اور سیر کیا ،پِلایا اور سیراب کیا''۔
اِس کے بعد میں نے عرض کیا :یا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْن! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ایک مکتوب لیکر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا کہاں سے ؟میں نے عرض کیاسلمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں سلمہ بن قیس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے خط اور اُس کے قاصد کو خوش آمدید کہتا ہوں۔لشکرِ اسلام کے متعلق کچھ بتائیے۔میں نے عرض کی یا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْن رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تمنّاکے مُطابِق اللّٰہ تَعَالٰی نے اِسلامی لشکر کو فتح و نصرت سے ہمکِنار کیا ۔میں نے جنگ میں پیش آنے والے