عنہ نے ارشاد فرمایا : اے یرفاء دسترخوان اُٹھا لوپھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چل دیئے تو میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے ہولیا ۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں داخل ہوگئے تو میں نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کمالِ شفقت سے اِجازت عطا فرمادی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالوں کی بُنی ہوئی ایک چٹائی پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو ایسے تکیوں پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جو کھجور کے پتّوں سے بھرے ہوئے تھے ۔اِن میں سے ایک تکیہ میری طرف بڑھا دیا تو میں اُس پر بیٹھ گیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے پردہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پردے کی طرف دیکھا اور اپنے بچوں کی امّی سے ارشاد فرمایا :اے اُمِّ کُلثُوم (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) ہمیں کھانا دیجئے ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لئے کو ئی خاص کھانا تیار کروایا ہو گا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچوں کی امّی (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)نے تیل میں تلی ہوئی ایک روٹی جس پر سالن کی جگہ نمک رکھا ہوا تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیش کی ۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا :آؤ کھانا کھاؤ میں نے تعمیلِ حکم کے طور پر چند ایک لقمے لے لئے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھانا کھایا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھانے کا انداز ایسا دِلرُبا تھا کہ میں نے کبھی کسی کو اِس عمدہ انداز میں کھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔