Brailvi Books

مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے
24 - 70
واقعہ اِنہی کی زَبانی مُلاحِظہ فرمائیں۔

    ''قبیلہ اشجع'' کا وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں اور میرا غلام بصرہ کی طرف روانہ ہو ئے ،وہاں پہنچ کر ہم نے سفر کے لئے دوسواریاں خریدیں ،اِس کے لئے اجازت اور سرمایہ ہمیں حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عنایت کیا تھا ۔ہم نے زادِ راہ اِن پر لادااور مدینہ  منورہ (زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا) کی طرف روانہ ہو گئے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تلاش کیا تو وہ ایک جگہ اپنے عصاء پر ٹیک لگائے، مسلمانوں کو کھلائے جانے والے کھانے کی نگرانی فرمارہے تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے غلام یرفاء کو فرمارہے تھے ۔اے یرفاء :ان لوگوں کے سامنے مزید گوشت رکھو ۔اے یرفاء :ان لوگوں کے سامنے مزید روٹی رکھو ۔اے یرفاء :ان لوگوں کے برتن میں مزید شوربا ڈالو،جب میں اِن کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ارشاد فرمایا :بیٹھو ۔میں وہیں عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرے سامنے کھانا رکھا گیا میں نے کھانا کھایا ۔

    جب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ